جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں خلاف ضابطہ حراست کی شکایت کا نیا میکانزم متعارف

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں قیدیوں کو آئین اور قانون کے تحت حاصل حقوق اور مرعات کو یقینی بنانے اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک نیا میکانزم اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی پبلک پراسیکیوشن اور وزارت داخلہ کے زیرانتظام ابشرپلیٹ فارم کی مدد سے خلاف ضابطہ قید یا قیدیوں کے بارے میں آن لائن شکایات کا ایک نیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

آن لائن شکایت پروگرام کے ذریعے سعودی عرب کا کوئی باشندہ یا ملک میں مقیم غیر ملکی شہری زیرحراست فرد یا افراد کو آئین اور قانون کے تحت حاصل حقوق نہ ملنے کی شکایت کا اندراج کرا سکتا ہے۔ کسی بھی قیدی کے تحت ضابطہ حراست نہ ہونے یا اس کے حقوق میں افراط وتفریط کے حوالے سے ہرشہری کو متعلقہ حکام تک اپنی شکایت پہنچانے کا حق ہے اور اب یہ شکایات براہ راست ابشرپلیٹ فارم کے ذریعے حکام بالا تک پہنچائی جائیں گی۔”زیر حراست کسی شخص کو بنیادی حقوق حاصل نہیں یا اسے خلاف ظابطہ حراست میں رکھا گیا ہے تو ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے جیلوں کی مانیٹرنگ کرنیوالے حکام تک اس کی شکایت کی جائے گی، تاکہ قیدی کے آئینی حقوق کی ضمانت فراہم کی جا سکے۔ یہ شکایت متعلقہ حکام تک پہنچائی جائے گی جس کے بعد حکام خود اس شکایت کی چھان بین کرکے قیدیوں کے ساتھ ہونے و الی کسی بھی نا انصافی کا نوٹس لے سکیں گے۔پبلک پراسیکیوشن کے وکیل عبد اللہ المقبل کا کہنا تھا کہ فوجداری کارروائی کے قانون کے آرٹیکل 40 کے مطابق کسی کو بھی قید یا غیر قانونی طور پر حراست میں میں شکایت کرنے، غیر مناسب مقام پر قید کرنے یا کسی بھی دوسرے خلاف ضابطہ اقدام کی شکایت ہر شہری کا حق ہے۔ مملکت میں کہیں بھی کسی قیدی کواس کے آئینی حقوق فراہم نہیں کیے گئے ان کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ آج تک اس حوالے سے روایتی انداز میں شکایت درج کی جاتی رہی ہیں۔ابشر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے قیدیوں کے حوالے برتی جانی والی کسی بھی نااہلی یا خلاف قانون اقدام کی شکایت کی جاسکے گی۔ المقبل کا مزید کہنا تھا کہ ابشر پلیٹ فارم کی مدد سے شکایت کا اندراج جیلوں میں قیدیوں کے مسائل کے حل میں مدد اور پراسیکیوشن حکام کی کارکردگی کو مزید بہتر کرنے میں مدد کرے گا۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…