جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

حملوں کا مقصد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا نہیں تھا بلکہ ہمارا مقصد کیا تھا ؟ ایرانی کمانڈر نے حیران کن انکشاف کر دیا

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کی فضائیہ کے کمانڈر ائیرفورس جنرل امیر علی حاجی زادہ نے عراق میں امریکا کے دو فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بارے میں ایک نیا دعویٰ کردیا ہے اورکہاہے کہ ان کا مقصد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ امریکا کی

فوجی مشین کو نقصان پہنچانا تھا۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق حاجی زادہ نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم اس آپریشن میں کسی کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے تھے،اگرچہ اس میں دسیوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ہم کسی کو ہلاک کرنا چاہتے تو پھر ہم اس آپریشن کو ایک اور انداز میں ڈیزائن کرتے جس سے پہلے ہی ہلے میں پانچ سو(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔اگر وہ اس کا جواب دیتے تو دوسرے مرحلے میں اڑتالیس گھنٹے کے اندر مزید چار سے پانچ ہزار(امریکی) ہلاک ہوجاتے۔پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا مناسب ردعمل یہ ہوسکتا ہے کہ خطے سے امریکی فوجیوں کو نکال باہر کیا جائے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے سیکڑوں میزائل تیاری کی حالت میں ہیں۔اس نے جب عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے تھے تو ساتھ سائبر حملے بھی کیے تھے اور ان سے امریکا کے طیاروں اور ڈرون کے سمت نما نظاموں (نیوی گیشن سسٹمز) کو ناکارہ بنا دیا تھا۔حاجی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ میزائل حملے تو خطے بھر میں سلسلہ وار حملوں کا نقطہ آغاز ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…