جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں سعودی سفیر کی 20 سال سے بچھڑی ماں بیٹی کو ملانے کی یقین دہانی،بیٹی سے رابطے کے لیے ایک موبائل فون بھی تحفے میں دیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2019 |

جکارتہ(این این آئی)انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت انڈونیشیا میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے 20 سال سے ایک دوسرے سے جدا ماں بیٹی کوملانے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق دوعشرے قبل انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے سعودی شوہر کی وفات کے بعد اسیواپس انڈونیشیا جانے پر مجبورکردیا گیا ۔ اس وقت اس کی ایک بیٹی تھی جس کی

عمر دو یا تین سال تھی۔ بیٹی کواس کے رشتہ داروں نے اپنے پاس رکھ لیا۔ جوان ہونے کے بعد لڑکی نے اپنی انڈونیشی ماں کی تلاش شروع کی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے انڈونیشیا میں قائم سفارت خانے کی طرف سے بھرپور تعاون کیا گیا اور سعودی بچی کی انڈونیشی ماں کو تلاش کرلیا گیا۔ انڈونیشی خاتون نے سعودی سفیرعصام الثقفی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں الثقفی نے انہیں بیٹی سے رابطے کے لیے ایک موبائل فون بھی تحفے میں دیا۔ دونوں ماں بیٹی کیدرمیان ٹیلیفون پربات چیت بھی کرائی گئی۔ اس موقع پر سعودی سفیر نیخاتون کو یقین دلایا کہ سفارت خانہ جلد ہی اس کے سعودی عرب کیسفر کا انتظام کرے گا تاکہ دو عشروں سے بچھڑی ماں بیٹی کو ملنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔بیٹی کی تلاش میں انڈونیشی خاتون نے کئی بار سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا تو سفارت کاروں کی طرف سے اس کے ساتھ ہرممکن تعاون کیا گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی سفیرعصام الثقفی نے کہا کہ سفارت خانہ انڈونیشی خاتون اور اس کی سعودی بیٹی کی ملاقات کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہا ہے۔ تمام ضروری شرائط اور تقاضے پورے ہونے پر خاتون کے سعودی عرب کے سفر کا انتظام کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…