جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کنہیا کمار نے جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلباء پر پولیس کے تشدد کے بعد  آزادی کا نعرہ دوبارہ لگادیا، مودی سرکار کیلئے دوٹوک پیغام بھی جاری کر دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے طالب علموں کے خلاف تشدد اور پولیس کے مظالم کے خلاف مظاہرے احتجاج کیلئے اپنا مشہور نعرہ ہم لے کررہیںگئے آزادی نعرے واپس لگایا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بہار میں ہزاروں سے زائد افراد کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا کمار نے شہریت کے متنازعہ ترمیمی قانون اور دلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ’’دوگاندھی والی آزادی اوردو این آر سی سے آزادی ‘‘کے نعرے بلند کئے ۔کنہیا کمار نے بہار کے علاقے پورنیہ میں احتجاجی ریلی کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں نے طلباء کے خلاف کریک ڈائون کی مذمت اور شہریت کے متنازعہ قانون کو غیر آئینی قراردیا ہے ۔ متنازعہ قانون کے تحت ہندو ، سکھ ، بودھ ، جین ، پارسی اور مسیحی برادری کے ارکان جو 31 دسمبر 2014 تک پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آئے ہیں انہیں بھارتی شہریت دی جائے گی ، لیکن اس کا اطلاق بھارت کے مسلمانوں پر نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…