ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

شہریت قانون کیخلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج،طلبہ بھارتی ظلم و ستم کے خلاف پھٹ پڑے

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں نئے شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی،دارالحکومت نئی دہلی کی مرکزی جامعہ میں اس بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال سے 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے غیرمسلموں کو شہریت دینے کے نئے قانون کے خلاف احتجاج کیا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اس قانون کے خلاف تیسرے روز ہونے والا پرامن مظاہرہ افراتفری میں تبدیل ہوگیا اور 3 بسوں کو نذرآتش کردیا گیا،ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار چھنموئے بسوال نے کہا ہے کہ جنوبی دہلی کے پوش علاقے میلی میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ تاہم منتظمین طلبہ کے مطابق تشدد باہر کے افراد کی جانب سے کیا گیا۔اس حوالے سے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت ہے اور ہم نے یہ برقرار رکھا کہ ہمارے مظاہرے پرامن اور تشدد سے پاک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نقطہ نظر کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی پارٹی کے تشدد میں ملوث ہونے کی مذمت کرتے ہیں۔دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں عمارتوں پر سیکولر انڈیا جیسے نعرے درج کیے گئے تھے جبکہ متعدد طلبہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں بتایا کہ پولیس کی جانب سے یونیورسٹی کی لائبریری میں آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور کیمپس کے تمام دروازوں کو سیل کرنے سے قبل مظاہرین پر تشدد بھی کیا۔اس بارے میں ایک طالب علم طفیل احمد نے کہا کہ ہمارے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا اور میں اپنی جان بچانے کیلئے کیمپس سے فرار ہوگیا،تمام واقعے سے متعلق شیئر کی گئی ویڈیوز میں یونیورسٹی کی لائبریری میں افراتفری کے مناظر کے ساتھ ساتھ پولیس کو آنسو گیس کے شیل فائر کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ طلبہ میز کے نیچے بیٹھے اور باتھ روم کے اندر بند ہوگئے۔ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار وسیم احمد خان نے کہا کہ پولیس زبردستی کیمپس میں داخل ہوئی،

انہیں کوئی اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ ہمارے سٹاف اور طلبہ کو مارا گیا اور انہیں کیمپس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔واقعے کے بارے میں ہسپتال کے ترجمان فادر جیورج نے کہا کہ ہولی فیملی ہسپتال سمیت قریبی ہسپتالوں میں متعدد زخمی طلبہ کو لایا گیا، جہاں 26 طلبہ کو طبی امداد دی گئی۔قریبی الشفا ہسپتال میں طبی امداد حاصل کرنے والے ایک طالب علم مجیب رضانے کہا کہ پولیس نے مجھے زمین پر گرا کر مارا جبکہ میرے دوستوں کو بھی نہیں بخشا۔ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر ناظمہ اختر نے طلبہ کیلئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی اعلیٰ حکام کے ساتھ پولیس کی جانب سے زبردستی یونیورسٹی میں داخل ہونے کا معاملہ اٹھائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…