بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی اعلیٰ شخصیات نے مقبوضہ کشمیر کو برفیلی جیل قرار دے دیا

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

سری نگر(این این آئی) بھارت کی اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وادی کو ٹھنڈی جیل قرار دے دیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئرفورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک سمیت سول سوسائٹی کے وفد نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد

مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے والے دعوے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حالات نارمل نہیں، ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا ساری دکانیں بند ہیں، کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے، حکومت یا جانبدار میڈیا سے ہم تک معلومات پہنچتی ہیں، اس لیے ہم خود آزادانہ طور پر حالات کا جائزہ لے کر ملک کو اصل صورتحال سے آگاہ کریں گے۔کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو فروزن امپریزنمنٹ (یخ بستہ قید) قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول پر قرار دیا جارہا ہے، حکومت کو اعلانات کے بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے جس میں وہ 5 اگست سے مبتلا ہیں جب کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمہ کا اعلان کیا گیا۔بھارت بھوشن نے کہا کہ کشمیر کے حالات پرسکون اور پرامن نہیں ہیں جبکہ میڈیا کو بھی کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، کاروبار بھی ٹھپ ہے، آخر کشمیری بھی ہماری طرح شہری ہیں، تو ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…