بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سنگا پور کی مسجد بے گھر افراد کا سہارا بن گئی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

سنگاپور سٹی(این این آئی)سنگا پور کی مسجد انتظامیہ نے بے گھر افراد کے رات میں سونے کے لیے مسجد کے دروازے کھول دیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سنگا پور کی نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے ایک مطالعہ کیا گیا جس کے بعد یہ معلوم ہو اکہ اس ملک میں تقریبا 1000لوگ بے گھر ہیں جو کہ سڑکوں اور گلیوں میں سونے پر مجبور ہیں۔زیادہ تر بے گھر افراد میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے جب کہ

ان افراد کے بے گھر ہونے کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری، کم تنخواہیں اور گھریلو مسائل ہیں۔اس تمام تر صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسجدِ سلطان سنگاپور کی پہلی مسجد ہے جو بے گھر افراد کو جزوی طور پر ٹھکانا فراہم کرتی ہے۔یہ مسجد رات 10بجے سے صبح 7 بجے تک بے گھر افراد کو سونے کے لیے چھت فراہم کرتی ہے۔مسجد سلطان کے سوشل ڈیولیپمنٹ آفیسر محد آئزالدین جمال الدین کا کہنا ہے کہ مسجد ایک عبادت گاہ ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان بے گھر افراد کی مدد کریں۔یہ جگہ مرکزی عمارت اور نماز ہال سے دور مسجد کے ساتھ ہی انیکسی بلڈنگ کے تہہ خانے میں بنائی گئی ہے۔اس کمرے میں 5 افراد ایک ساتھ باآسانی آرام کر سکتے ہیں جس میں گدے، تکیہ اور پنکھا لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی پانی کی بوتلیں بھی موجود ہیں۔مسجد کی انتظامیہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ یہ نیا اقدام مسجد میں آنے والوں کو پریشان نہیں کرے گا اور نہ ہی عبادت گاہ کسی رکاوٹ کا باعث بنے گا۔اس جگہ کو استعمال کرنے کے لیے بے گھر افراد کو مسجد کے سیکیورٹی گارڈ کے پاس رجسٹریشن کروانی ہوتی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…