بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا : بسکٹ فیکٹری پرفضائی حملہ ،غیرملکیوں سمیت سات مزدور ہلاک

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

طرابلس (این این آئی)لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بسکٹ تیار کرنے والی ایک فیکٹری پر فضائی حملے میں سات ورکر ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لیبیا کی وزارت صحت نے کہا کہ مہلوکین میں پانچ غیرملکی اور دو مقامی شہری ہیں۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ فضائی حملہ کس نے کیا ہے۔طرابلس میں اپریل سے جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج اور اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی اتحادی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔وزارت صحت نے کہا کہ دارالحکومت کے جنوب میں واقع علاقے وادی الربیع میں بسکٹ فیکٹری کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا گیا ہے۔اس علاقے میں گذشتہ کئی ماہ سے متحارب فوجوں کے درمیان قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔وزارت صحت کے ترجمان مالک مرست نے امریکی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حملے میں مرنے والے تمام غیرملکیوں کا تعلق بنگلہ دیش ہے۔زخمیوں میں زیادہ تر کا تعلق نیجر اور بنگلہ دیش سے ہے اور انھیں ایمبولینسوں کے ذریعے نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ۔ان میں سے بعض کی اسٹریچروں پر خون آلود ٹانگوں کے ساتھ تصویریں آن لائن پوسٹ کی گئی ہیں۔طرابلس میں حالیہ مہینوں کے دوران میں متحارب دھڑوں کے درمیان براہ راست لڑائی تو تھم چکی ہے لیکن وہ ایک دوسرے پر توپ خانے سے گولہ باری کررہے ہیں۔خلیفہ حفتر کی فوج گاہے گاہے مخالفین کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے بھی کرتی رہتی ہے لیکن ان کا زیادہ تر نشانہ عام شہری بنتے ہیں۔ طرابلس پر قبضے کی اس لڑائی میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…