اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

ترکی کو روس کے ایس 400 نظام سے دستبرداری کے لیے امریکی دبائو برقرار

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی طرف سے ترکی پر روس کے ایس 400 دفاع نظام سے دست برداری کے لیے دبائو جاری ہے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن ترکی کے ساتھ ابھی تک بات چیت کر رہا ہے کہ وہ روسی دفاعی نظام ترک کردے۔امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن انقرہ پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ یا توایس400نامی دفاعی نظام کو

روس سے نہ خریدے یا اسے آپریشنل حالت میں نہ لائے۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایس400دفاعی نظام کا معاملہ ترکی کے ساتھ واشنگٹن کی وسیع تر بات چیت کا حصہ ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس کے میزائل سسٹم کی خریداری کی وجہ سے ترکی پر پابندیاں عاید کرنے کے خطرے سے متعلق بات چیت ترکی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں شامل ہے۔2017 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت امریکا اپنے حریفوں سے اسلحہ خرید کرنے اور انہیں آپریشنل حالت میں لانیوالے ملک پرپابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔امریکی حمایت یافتہ کرد فورسزکے خلاف فوجی آپریشن کے بعد ‘نیٹو’ کے دو اتحادیوں کے مابین بحران پیدا ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ترکی کے خلاف پابندیاں ختم کردیں۔تاہم شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کے معاملے پر دونوں ملکوں میں تنا ختم نہیں ہوا۔ ترکی کو نیٹو میں رکنیت کے باوجود روس سے ایس 400میزائل سسٹم خریدنے پر اس کے خلاف پابندیوں کے خطرہ کا سامنا ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ایسا نہیں لگتا تھا کہ انقرہ نے روسی دفاعی نظام کو چلائے گا۔ ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود ترکی اپنے اتحادیوں کے طیاروں کو روسی دفاعی نظام سے خطرے میں ڈال دے۔بہر حال ترک صدر رجب طیب اردوآن نے روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی نے شمالی شام میں امریکی فوج کے متبادل روسی فوج کی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ شمالی شام سے اپنی فوج نکال لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…