بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج میں خواتین کو کس شرمناک کام کیلئے بھرتی کیا جاتا ہے ،مستعفی اہلکار نے کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دیا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی پیرا ملٹری فورس سے استعفی دینے والی ڈپٹی کمانڈنٹ کرونا جیت کور کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز میں خواتین کو خواہشات پوری کرنے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔بھارت کے ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کرونا جیت کور نے بتایا کہ بھارت کی سرحدی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس(آئی ٹی بی پی)میں ان کے ساتھ ہراسانی کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے آئی ٹی بی پی میں ڈاکٹر کے

عہدے سے استعفیٰ دیا۔انہوں نے بتایا کہ مجھے سرحد پر ایک اور خاتون ڈپٹی کمانڈنٹ کے ساتھ تعینات کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال 9 اور 10 جون کی رات کو ایک کانسٹیبل ان کے کمرے میں دروازہ کھول کر گھسا اور اس نے مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے یہ واقعہ پوسٹ کمانڈر کے انچارج افسر کو بتایا تو انہوں نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے کانسٹیبل سے کہا کہ اسے دوا کی ضرورت تھی تو یہاں کیوں آیا اور بعد ازاں اسے جا کر سونے کا کہا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے اس رویے کی مخالفت کی اور ٹیلی فون یا وائرلیس تک کی رسائی طلب کی جس پر انہوں نے بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ وائرلیس کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے بھارتی فوج کے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے سینئر کو فون کیا تو وہ نشے میں تھے اور انہوں نے اگلے دن صبح کو فون کرنے کا کہا۔خاتون کا کہنا تھا کہ اگلے دن میرے سینئر نے خود مجھے فون کیا اور سوال کیا کہ اس بارے میں ڈی جی کو کس نے بتایا اور کہا کہ اپنے دروازے کے لاک کے خراب ہونے کے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔کرونا جیت کور کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز میں خواتین کو خواہشات کی تکمیل کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے، اگر ایک کانسٹیبل ڈپٹی کمانڈنٹ کے ساتھ ہراسانی کی کوشش کر سکتا ہے تو دیگر جگہوں پر کیا صورتحال ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ فورسز میں بڑی تعداد میں خواتین کو اس مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے تاہم وہ نجی مسائل کی وجہ سے اس بارے میں بات کرنا برداشت نہیں کر سکتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…