بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

صدر ٹرمپ کا ترکی پرامریکا کی عا ئدکردہ حالیہ پابندیوں کے خاتمے کا اعلان

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر حال ہی میں عا ئد کردہ پابندیوں کو ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں ایک تقریر میں بتایاکہ میں نے سیکریٹری خزانہ کوترکی پر 14اکتوبر کو عاید کردہ پابندیوں کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پابندیاں ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں(امریکا کے اتحادی)کرد جنگجوئوں کے خلاف فوجی کارروائی کے

ردعمل میں عاید کی گئی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ترکی نے ان سے رابطہ کیا ہے اور مطلع کیا ہے کہ وہ شام میں اپنی جنگی کارروائی روک دے گا تاکہ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کو مستقل بنایا جاسکے۔امریکا کے محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق ترکی کی دفاع اور توانائی کی وزارتوں کے علاوہ وزیر داخلہ ، دفاع اور توانائی پر عاید کردہ پابندیوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کی ثالثی میں ترکی اور شامی کرد فورسز کے درمیان طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کی پاسداری کی جارہی ہے اور اس پر توقع سے کہیں بڑھ کر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شامی جمہوری فورسز( ایس ڈی ایف) کے کمانڈر انچیف جنرل مظلوم عابدی نے انھیں اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں زیر حراست داعش کے جنگجو حراستی مراکز میں محفوظ ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حراستی مراکز کا بڑے اچھے طریقے سے انتظام کیا جارہا ہے۔داعش کے قیدیوں میں سے چند ایک بھاگے تھے۔ان میں زیادہ تر کو دوبارہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ امریکی فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ شام میں تیل کے کنووں کے تحفظ کے لیے موجود رہے گا۔نیزہم یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ مستقبل میں اس ضمن میں اور کیا کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے شام کے شمالی مشرقی علاقے میں جنگ بندی کا تمام تر کریڈٹ امریکا کو دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر دوسرے

ممالک بھی اس ضمن میں مدد کو آتے ہیں تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے۔ترکی اور روس نے منگل کے روز سوچی میں شام کے شمال مشرقی علاقے میں مشترکہ فوجی گشت سے اتفاق کیا ہے اور ان کے فوجی شام کے اس علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے پیدا ہونے والے

خلا کو اب پر کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان اس سمجھوتے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے کر سراہا ہے۔اس کے نتیجے میں شام کے اندر قریبا بیس کلومیٹر کے علاقے میں ایک محفوظ زون قائم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…