بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کے سرسے جنگ لڑنے کا بھوت نہ اتر سکا، ایران کو پھر سنگین دھمکی دے ڈالی

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگرکسی اقدام کی ضرورت ہوئی تو ایران پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اگر ایران نے ہمیں ہم مجبور کیا تو ہم ایران پر حملہ کریں گے۔ اگر ضروری ہوا تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

20 ستمبر کو ٹرمپ نے ایران کے مرکزی بینک اور قومی ترقیاتی فنڈ پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ میں ایران پرحملے کے وقت کا فیصلہ خود کروں گا۔امریکی صد رنے کہا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ اس وقت انہوں نے تہران کو متنبہ کیا کہ واشنگٹن کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور وہ ایران کی طرف زیادہ سے زیادہ پابندی کا استعمال کر رہے ہیں۔ٹرمپ ایرانی حکومت پر اس کے طرز عمل میں تبدیلی اور اسے خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرنے سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دبائو ڈال رہے ہیں۔شام کے معاملے پر امریکی صدر نے پیر کے روز کہا تھا کہ شمالی شام میں جنگ بندی کی کچھ معمولی خلاف ورزیوں کے باوجود اس پرعمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی معاہدے کے خاتمے سے ایک دن قبل انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ترکی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ اس لیے وہ ترکی کو مزید پابندیوں کی دھمکی نہیں دینا چاہتے۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکی غلط سلوک کرتا ہے تو امریکا اپنی مصنوعات پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا۔ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کے ایک اجلاس کے دوران وائٹ ہاس میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا نے کردوں سے ان کے تحفظ کے لیے400 سال خطے میں رہنے کا کبھی بھی کوئی عہد نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں شام میں امریکی فوج کو نہیں رکھنا چاہتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…