جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

امریکی پابندیوں نے ایران کو بڑی مشکل میں ڈال دیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کی طرف سے ایران پرعاید کی گئی اقتصادی پابندیوں کے بعد ادائیگی کی مشکلات کی وجہ سے تقریباً ایک ملین ٹن اناج سے لدے 20 سے زیادہ جہاز ایرانی بندرگاہوں کے باہر پھنس گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کاروباری ذرائع نے بتایا کہ بونجی اور چین کی کوکو انٹرنیشنل جیسی کمپنیاں پابندیوں کے نتیجے میں لین دین میں مشکلات کا سامنا کررہی ہیں اور انہیں یومیہ 15000 ڈالر تک

اضافی لاگت کا سامنا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سنہ 2015 کے عالمی معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد واشنگٹن کی طرف سے عاید پابندیوں خوراک، ادویات اور انسانی ضرورت کی بنیادی اشیا کو مستثنی قرار دیا گیا ہے۔امریکا کے ایران کے خلاف اقدامات کا مقصد تیل کی فروخت پر پابندی ہے۔ یہ پابندیاں صرف جہاز رانی اور مالی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ متعدد غیر ملکی بینکوں کو ایران کے ساتھ کام کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔مالیاتی ذرائع منجمد ہونے کے ساتھ اب بہت کم غیرملکی بنک ایسے ہیں جو ایران کے ساتھ لین دین کررہے ہیں۔ انہیں بھی لین دین میں غیرمعمولی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا ہے ،چھ مغربی اور ایرانی ذرائع نے بتایا کہ پابندیوں کے باعث ایک ماہ سے غلے سے لدے کئی جہاز امام خمینی اور بندرعباس بندرگاہوں سے باہر کھڑے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ بندرگاہوں سے باہر کھڑے جہازوں پر سویا بین اور مکئی سمیت اجناس کی دیگر کھیپ جو زیادہ تر جنوبی امریکا لائی گئی ہے رکی ہوئی ہے۔ایک یورپی ذریعہ نے کہا کہ انسانی ضرورت کی اشیا ایران لے جانے پرکوئی پابندی لیکن آپ کو عدم ادائیگی کی وجہ سے کئی مہینے انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ایک اور ذریعے نے بتایا کہ ڈیلروں کو خدشہ ہے کہ بقایا جات ملنے سے سے قبل ایران کو ان اشیا کی فروخت روک نہ دی جائے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ غیر ملکی بنکوں اور ڈیلروں کی طرف سے ایران کے

بائیکاٹ کا دائرہ وسیع ہورہاہے۔ کئی غیرملکی بنکوں کی طرف سے ایران کے ساتھ لین دین سے انکار کیا گیا ہے۔ستمبر میں ایران کے مرکزی بینک پر سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پرحملوں کے بعد امریکا نے تہران پر نئی پابندیاں عاید کی تھیں جن کے نتیجے میں ایران کو لین دین کے معاملات انجام دینے مزید دشواریوں میں اضافہ

ہوا تھا۔ امریکا اور تین یورپی ممالک نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرایران کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ایرانی بندرگاہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ تازہ ترین پابندیوں سے بینکوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جن چھوٹے چھوٹے بینکوں کے ساتھ ہم کام کر رہے تھے ان میں سے کچھ نے ہمیں بتایا کہ وہ اب ہمارے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…