بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے گویلاجنگ کے بیج بودیے ہیں‘بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجوکے انکشافات،انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں بڑے پیمانے پرگویلاجنگ کے بیج بودیے ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جسٹس کاٹجو نے جو پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، بین الاقوامی جریدے ”دی ویک“میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سچ بولنے کا وقت آہی جاتا ہے اور میرے خیال میں وہ وقت آگیا ہے اور اس کی پہل میں کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ وہ سچ یہ ہے کہ کشمیر بہت جلد بھارت کے لیے ایسی جگہ بن جائے گی جو فرانسیسیوں اور امریکیوں کے لیے ویت نام، روسیوں کے لیے افغانستان اور نپولین کے لیے اسپین بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا جو لوگ دفعہ 370کے خاتمے پر آج خوشیاں منارہے ہیں وہ بہت جلدخواب غفلت سے جاگ جائیں گے جب کشمیر سے بڑی تعداد میں لاشیں آنا شروع ہوجائیں گی جس طرح ویت سے امریکیوں کی آتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ اورموبائل عیش آرام کی چیزیں نہیں بلکہ آجکل کی ضروریات ہیں اور لوگوں کو ان چیزوں سے ایک دن کے لیے بھی محروم کرناان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ جسٹس کاٹجو نے کہاکہ دو ماہ سے ان سہولیات سے لوگوں کو محروم رکھنے سے ان کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیاں اس کے علاوہ ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ کرفیو ہٹاتے ہی پوری وادی میں عوامی مظاہرے پھوٹ پڑیں گے۔ جب لاوا پھٹ جائے گا تو بھارت کے لیے”نہ نگلا جاسکتاہے اور نہ اگلا جاسکتا ہے“والی صورتحال پیداہو جائے گی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بدحواسی پر مبنی اور کوتاہ اندیش پالیسیوں سے بالخصوص دفعہ 370کی منسوخی کے بعد تقریبار پوری کشمیری آبادی بھارت کی دشمن بن چکی ہے اوراسے نفرت کرتی ہے۔ جسٹس کاٹجو نے کہاکہ علاقے میں بہت جلدویت نام کی طرح بھرپور مسلح بغاوت ہوگی اور لاشیں آنا شروع ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ

ایک فوج دوسری فوج کے خلاف تو لڑ سکتی ہے لیکن عوام کے ساتھ نہیں لڑ سکتی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ایسی صورتحال پیدا کردی جہاں لازمی طورپر بڑے پیمانے پر گوریلا جنگ ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلح جدوجہد میں شامل ہونگے کیونکہ جب ایک شخص اپنے معصوم رشتہ داروں اور دوستوں کو مرتے دیکھتا ہے تو وہ بھی مسلح ہوکر لڑتا ہے۔ جسٹس کاٹجونے کہاکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر ختم ہوگا لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم کشمیر میں طویل عرصے تک پھنس گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…