اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے گویلاجنگ کے بیج بودیے ہیں‘بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجوکے انکشافات،انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 1  اکتوبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں بڑے پیمانے پرگویلاجنگ کے بیج بودیے ہیں۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جسٹس کاٹجو نے جو پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، بین الاقوامی جریدے ”دی ویک“میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سچ بولنے کا وقت آہی جاتا ہے اور میرے خیال میں وہ وقت آگیا ہے اور اس کی پہل میں کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ وہ سچ یہ ہے کہ کشمیر بہت جلد بھارت کے لیے ایسی جگہ بن جائے گی جو فرانسیسیوں اور امریکیوں کے لیے ویت نام، روسیوں کے لیے افغانستان اور نپولین کے لیے اسپین بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا جو لوگ دفعہ 370کے خاتمے پر آج خوشیاں منارہے ہیں وہ بہت جلدخواب غفلت سے جاگ جائیں گے جب کشمیر سے بڑی تعداد میں لاشیں آنا شروع ہوجائیں گی جس طرح ویت سے امریکیوں کی آتی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ اورموبائل عیش آرام کی چیزیں نہیں بلکہ آجکل کی ضروریات ہیں اور لوگوں کو ان چیزوں سے ایک دن کے لیے بھی محروم کرناان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ جسٹس کاٹجو نے کہاکہ دو ماہ سے ان سہولیات سے لوگوں کو محروم رکھنے سے ان کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیاں اس کے علاوہ ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ کرفیو ہٹاتے ہی پوری وادی میں عوامی مظاہرے پھوٹ پڑیں گے۔ جب لاوا پھٹ جائے گا تو بھارت کے لیے”نہ نگلا جاسکتاہے اور نہ اگلا جاسکتا ہے“والی صورتحال پیداہو جائے گی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بدحواسی پر مبنی اور کوتاہ اندیش پالیسیوں سے بالخصوص دفعہ 370کی منسوخی کے بعد تقریبار پوری کشمیری آبادی بھارت کی دشمن بن چکی ہے اوراسے نفرت کرتی ہے۔ جسٹس کاٹجو نے کہاکہ علاقے میں بہت جلدویت نام کی طرح بھرپور مسلح بغاوت ہوگی اور لاشیں آنا شروع ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ

ایک فوج دوسری فوج کے خلاف تو لڑ سکتی ہے لیکن عوام کے ساتھ نہیں لڑ سکتی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ایسی صورتحال پیدا کردی جہاں لازمی طورپر بڑے پیمانے پر گوریلا جنگ ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلح جدوجہد میں شامل ہونگے کیونکہ جب ایک شخص اپنے معصوم رشتہ داروں اور دوستوں کو مرتے دیکھتا ہے تو وہ بھی مسلح ہوکر لڑتا ہے۔ جسٹس کاٹجونے کہاکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر ختم ہوگا لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم کشمیر میں طویل عرصے تک پھنس گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…