بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اہم خلیجی ملک میں پاجامہ پر پابندی کی تجویز سوشل میڈیا پرٹاپ ٹرینڈ بن گئی،پارلیمنٹ میں نیا آئینی بل پیش،دلچسپ صورتحال

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

کویت سٹی (این این آئی) خلیجی ریاست کویت میں جہاں اس وقت کئی اہم مسائل موجود ہیں وہاں سوشل میڈیا پر ایک ایسے موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے جو بہ ظاہرانتہائی معمولی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر صارفین نے اس موضوع کا خوب مذاق اڑایا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق کویت میں سوشل میڈیا کا تازہ اور گرما گرم موضوع پاجامہ ہے۔ کویتی مجلس امہ یعنی پارلیمنٹ میں ایک نئے آئینی بل کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک مقامات پر پاجامہ زیب تن کرنا اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ اگر کوئی شخص نائیٹ ڈریس(رات کو سونے کے لیے) استعمال کرنے والا لباس پبلک مقامات پرپہنتا ہے تو اسے ایک ہزار دینار جرمانہ کیا جانا چاہیے۔ یہ تجویز تضحیک اور طنز کا نشانہ بننے کے ساتھ ‘جرمانہ، پاجامہ، ایک ہزار دینار ہیش ٹیگ صف اول میں ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔کویت کے ایک قانون ساز کی طرف سے یہ پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ عوامی مزاج، رویوں اور قومی اقدار کے تحفظ کے لیے پبلک مقامات پر پاجامہ پہننے پر پابندی لگائی جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنیوالے کو ایک ہزار کویتی دینار یعنی 3300 امریکی ڈالر کے مساوی رقم کا جرمانہ کیا جائے۔ یہ تجویز سامنے آنے کیے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔کویت کے مقامی اخبارکے مطابق رکن پارلیمنٹ ماجد المطیری نے اپنی تجویز میں عوامی مقامات پر 11 طرز عمل کے منفی رویوں کی نشاندہی کی جب کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا کی سفارش کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…