بھارت میں 19لاکھ مسلمانوں کو قید کرنے کا فیصلہ،حراستی کیمپوں کی تعمیر شروع،انتہائی تشویشناک انکشافات

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  21:59

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ریاست آسام میں مودی سرکار کی جارحیت کی وجہ سے دربدر ہونے والے مسلمان مہاجرین کے لیے حراستی کیمپوں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔گزشتہ ماہ کے آخر میں مودی سرکار نے بھارتی ریاست آسام میں بنگلا دیشی مہاجرین کی آڑ میں 19 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا تھا۔شہریت کی حتمی فہرست کے مطابق محروم ہونے والے افراد کو اپیل کے لیے 4 ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کے لیے 10 حراستی کیمپوں کی تعمیر شروع کر دی گئی


ہے۔رپورٹ کے مطابق آسام میں بھارتی حکومت بڑے پیمانے پر حراستی کیمپ قائم کر رہی ہے جس میں غیر قانونی قرار دیئے گئے مسلمانوں کو منتقل کیا جائے گا۔خیال رہے کہ بھارت میں 2014 میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مودی حکومت نے نیشنل رجسٹر فار سٹیزن شپ کو مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا اور بی جے پی کے رہنما امیت شاہ نے بنگلا دیش سے ہجرت کر کے بھارت آنے والے مہاجرین کو دیمک قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

موضوعات:

loading...