بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے باعث بھارت کے کئی حصوں میں بے چینی 2اکتوبر کو ہندوستان بھر میں کیا ہونے جارہا ہے؟مودی کی نیندیں اڑگئیں

datetime 28  اگست‬‮  2019 |

حیدر آباد ‘بھارت(این این آئی)بھارت کے معروف سماجی کارکن اور کنوینر آل انڈیا سیکولر فورم ڈاکٹر سریش کھیر نار نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے جموںوکشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث ملک کے کئی حصوں میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور عوا م میں ناراضگی ہے ۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر سریش کھیر نار نے بھارتی شہر حیدر آباد سے شائع ہونے والے اردو اخبار ’روزنامہ سیاست ‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ2اکتوبر کو گاندھی کے 150ویں یو م پیدائش پر ملک بھر سے ’’کشمیر چلو‘‘ مارچ کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ہر بھارتی کو اس بات کا اندازہ ہو کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کشمیر میں کس طرح کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ان پابندیوں کا شکار کشمیریوں کو بھی اس بات کا احساس ہو کہ بھارتیوں کے دلوں میں انکے لیے تڑپ ہے اور وہ بھی انکے کرب کو محسوس کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سریش نار نے کہا کہ آئند ہ ایک ماہ کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں رہنے والے سنجیدہ اور کشمیر کے حوالے سے فکر مند افراد سے رابطہ کر کے ’’کشمیر مارچ‘‘ کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کا مقصد پابندیوں اور ذرائع مواصلات کی بندش کے ساتھ زندگی گزارنے والے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور کشمیرکے زمینی حالات سے آگہی حاصل کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…