بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید،محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثناء التجا کو آواز اُٹھانا مہنگا پڑ گیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں‘۔ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثنا التجا جاوید نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ دوبارہ کچھ کہا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔4 اگست کو محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو تحویل میں لیے جانے کے بعد سے ثنا التجا جاوید کئی انٹرویوز اور وائس میسیجز جاری کر چکی ہیں۔

امیت شاہ کو لکھے خط میں انہوں نے کہا کہ ’آج جب پورا ملک بھارت کے یومِ آزادی کا جشن منارہا ہے، کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں‘۔تاہم بھارتی وزیر داخلہ کو یہ خط ارسال نہیں کیا گیا جس کے متن میں کہا گیا کہ ’خط پوسٹ نہ کرنے پر معذرت خواہ ہوں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں پوسٹل سروسز معطل ہیں‘۔ثنا التجا جاوید نے کہا کہ انہیں گھر سے باہر قدم نکالنے کی اجازت نہیں، انہوں نے اپنی مبینہ گرفتاری سے متعلق وضاحت بھی مانگی۔میڈیا میں جاری کیے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے کچھ وجوہات کی بنیاد پر، جن سے متعلق آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں، میں بھی اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہوں، یہاں تک کہ ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا اور ملاقاتیوں کو دروازے سے ہی واپس بھیج دیا جاتا ہے‘۔محبوبہ مفتی کی بیٹی نے کہا کہ ’میں کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوں اور بطور شہری ہمیشہ قانون کی پاسداری کی ہے‘۔ثنا التجا کا امیت شاہ کو لکھا گیا مذکورہ خط میڈیا میں وائس میسج کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔خط میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے شہری کو ناقابل تصور دباؤ پر آواز اٹھانے کا حق حاصل نہیں؟‘۔ثنا التجا نے کہا کہ ’یہ المناک ستم ظریفی ہے کہ تکلیف دہ سچ بیان کرنے پر میرے ساتھ جنگی جرائم کے مجرم جیسا سلوک کیا جارہا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور میری سخت نگرانی کی جارہی ہے، مجھے اپنے ساتھ ساتھ ان کشمیریوں کی جان کا خطرہ بھی درپیش ہے جنہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے‘۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…