بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اسد الدین اویسی کی جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید تنقید، دیگر علیحدگی پسند ریاستوں ناگالینڈ، میزورم، منی پور، آسام اور ہماچل پردیش کے عوام کو اہم پیغام دیدیا

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

حیدر آباد(آن لائن)بھارت کے ممتاز سیاست دان، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مودی سرکار کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے جس طرح سے کشمیر میں کرفیو اور پابندی لگائی ہے، اس سے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں،میں ناگالینڈ، میزورم، منی پور، آسام اور ہماچل پردیش کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے جو کشمیر کےساتھ ہوا ہے۔بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق اسد الدین اویسی نے

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ا?رٹیکل 370 کے خاتمے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ کشمیر میں اس وقت ایمرجنسی جیسے حالات ہیں،وہاں نہ تو فون چالو ہیں اور نہ ہی لوگوں کو باہر نکلنے کی ا?زادی دی جا رہی ہے،بھارتی وزیر اعظم مودی کو ا?ئینی عمل کے تحت فیصلہ لینا چاہئے اور وہاں سے کرفیو ہٹایا جانا چاہئے۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ جس طرح سے کشمیر میں کرفیو اور پابندی لگائی گئی ہے، اس سے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں،مجھے یقین ہے کہ ایک دن مجھے بھی گولی مار دی جائے گی، ملک میں گوڈسے کی اولاد ایسا کر سکتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…