لندن (این این آئی)برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے اندر 14 ایسے عسکری تربیتی مراکز بھی موجود ہیں جہاں دہشت گردوں کو مغربی اہداف پر حملوں کی تربیت دی جاتی ہے۔برطانوی اخبار نے اشاعت میں شامل اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران میں مغربی اہداف پر حملوں کے لیے تیار کیے جائے والے عسکری کیمپ پاسداران انقلاب کی سمندر آپریشن کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کی زیر نگرانی قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں دہشت گردوں کو مغربی اہداف پر
حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سخت کشیدگی ہے۔ ایران خطے میں عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کے ساتھ اپنے متنازع جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑھا رہا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق ایرانی نظام کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کرنے والی ایرانی اپوزیشن جماعت مجاھدین خلق کا کہنا ہے کہ تہران دہشت گردی کے تربیتی مراکز کو اپنے ایجنٹوں کی عسکری تربیت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کیمپوں میں ایسے عناصر کو تیار کیا جاتا ہے جنہیں بعد ازاں یورپ اور امریکا کے اندر کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔مجاھدین خلق کے ترجمان شاہین قوبادی نے ایک بیان میں کہا کہ سمندر پار دہشت گردی کے لیے تیار کیے جانے والے دہشت گرد تریبتی مراکز کو شمالی تہران کے امام علی فوجی اڈے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔قوبادی کا کہنا ہے کہ قدس ملیشیا نے ان تربیتی مراکز کے لیے یونٹ 12000 کی اصطلاح اپنائی ہے۔ امام علی کیمپ 10 ہیکٹر زمین پر پھیلا ہوا ہے جس میں موجود تربیتی مراکز پاسداران انقلاب کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔قوبادی نے کہا کہ بیرون ملک دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے قائم کردہ مراکز میں 8 تہران میں ہیں۔ ایک مرکز آبنائے ہرمز کے کنارے جزیرہ قشم میں قائم ہے۔دیگر عسکری مراکز اھواز، عبادان او مغربی ایران کے علاقے سمنان میں قائم اور خراسان میں قائم ہیں۔خیال رہے کہ امریکا ایران پر اپنے ایجنٹوں مدد سے مغربی ملکوں پرحملوں کا الزام عاید کرتا ہے۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے عالمی تیل بردار جہازوں پر اپنے ایجنٹوں کی مدد سے 5 بار حملے کرائے۔