منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر میں ’آل از ویل نہیں آل از ہیل‘ ہے، بھارتی صحافیوں نے مودی کو آئینہ دکھا دیاکشمیر میں ’آل از ویل نہیں آل از ہیل‘ ہے، بھارتی صحافیوں نے مودی کو آئینہ دکھا دیا

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 5 روز تک مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے والے بھارتی صحافیوں نے کہاہے کہ وادی میں ’آل از ویل نہیں بلکہ آل از ہیل‘ ہے۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کو بتانے والے صحافیوں اور

سول سوسائٹی کے نمائندوں کی زبان بند کر دی۔نو سے 13 اگست تک مقبوضہ وادی میں حالات کا جائزہ لینے والے بھارتی صحافیوں نے پریس کانفرنس میں مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا۔بھارتی صحافیوں نے بتایا کہ انہیں سینکڑوں کشمیریوں میں سے صرف ایک شخص آرٹیکل 370 کی منسوخی سے خوش نظر آیا اور وہ کشمیر میں بی جے پی کا نمائندہ تھا۔صحافیوں کے مطابق کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں آل از ویل ہے، حقیقت میں کشمیر آل از ہیل ہے۔خاتون بھارتی صحافی کویتا کرشنن کا کہنا تھا ہم نے آرٹیکل 370 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورت حال کی تصاویر اور ویڈیوز دکھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہماری پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے بتایا گیا کہ اب وہ یہ سب نہیں دیکھا سکیں گے۔کویتا کرشنن نے کہا کہ پریس کلب آف انڈیا نے ہم سے کہا کہ ہم یہ سب کچھ دکھانے کے لیے پروجیکٹر کا استعمال نہیں کر سکتے کیوں کہ اْن پر بہت دباؤ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب میں نے پریس کلب آف انڈیا کی ایک ترجمان سے بات کی تو انہوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کی جانب سے تصاویر اور ویڈیوز دکھانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…