منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

خلیج میں بیرونی فوج کی موجودگی عدم استحکام کی علامت ہوگی، ایران

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں کسی بیرونی فوج کی موجودگی کو ایران کیلئے عدم تحفظ کا ذریعہ سمجھا جائیگا اور اس حوالے سے دفاعی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ خلیج فارس ایران کے لیے ایک اہم لائف لائن ہے اور سیکیورٹی کے لحاظ سے قومی ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ اس حقیقت کو

ذہن میں رکھتے ہوئے خطے میں کسی اضافے کو عدم تحفظ کے ذریعے سے تعبیر کیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع کیلئے ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکا عالمی سطح پر کوششوں میں مصروف ہے کہ اسرائیل کو خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی اتحاد میں شامل کرلیا جائے حالانکہ اس وقت ایران کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ایران نے امریکی کوششوں کو دیکھتے ہوئے خطے میں بدترین حریف اسرائیل کو اس طرح کے کسی اتحاد کی صورت میں سامنے آنے کے حوالے سے خبردار کردیا تھا۔قبل ازیں برطانیہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ خلیج فارس میں ایران کی جانب سے ان کے بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکا کے میری ٹائم سیکیورٹی مشن میں شامل ہورہا ہے۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں تیل کی 5 فیصد روانی خلیج کے بحری راستے سے ہوتی ہے، تاہم امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے 2015 کے جوہری معاہدے سے دست برداری اور معاشی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکا اور ایران آمنے سامنے ۔ایران کے مطابق خلیج فارس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی اپنی ہے جس کیلئے کسی بیرونی طاقت کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا موقف ایران کے برخلاف امریکی حمایت پر مبنی ہے اور ان کا عالمی برادری سے مطالبہ رہا ہے کہ وہ تیل کی فراہمی اور میری ٹائم تجارت کے دفاع کے لیے اقدامات کرے۔خیال رہے کہ 20 جولائی کو ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانوی تیل بردار جہاز کو مبینہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جس پر برطانیہ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔برطانوی جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے معاملات کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے تھے اور امریکا سمیت دیگر طاقتیں بھی متحرک ہوگئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…