جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

خلیج میں بیرونی فوج کی موجودگی عدم استحکام کی علامت ہوگی، ایران

datetime 10  اگست‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران (این این آئی)ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں کسی بیرونی فوج کی موجودگی کو ایران کیلئے عدم تحفظ کا ذریعہ سمجھا جائیگا اور اس حوالے سے دفاعی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں جواد ظریف نے کہا کہ خلیج فارس ایران کے لیے ایک اہم لائف لائن ہے اور سیکیورٹی کے لحاظ سے قومی ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ اس حقیقت کو

ذہن میں رکھتے ہوئے خطے میں کسی اضافے کو عدم تحفظ کے ذریعے سے تعبیر کیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع کیلئے ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکا عالمی سطح پر کوششوں میں مصروف ہے کہ اسرائیل کو خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی اتحاد میں شامل کرلیا جائے حالانکہ اس وقت ایران کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ایران نے امریکی کوششوں کو دیکھتے ہوئے خطے میں بدترین حریف اسرائیل کو اس طرح کے کسی اتحاد کی صورت میں سامنے آنے کے حوالے سے خبردار کردیا تھا۔قبل ازیں برطانیہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ خلیج فارس میں ایران کی جانب سے ان کے بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکا کے میری ٹائم سیکیورٹی مشن میں شامل ہورہا ہے۔خیال رہے کہ دنیا بھر میں تیل کی 5 فیصد روانی خلیج کے بحری راستے سے ہوتی ہے، تاہم امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے 2015 کے جوہری معاہدے سے دست برداری اور معاشی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکا اور ایران آمنے سامنے ۔ایران کے مطابق خلیج فارس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی اپنی ہے جس کیلئے کسی بیرونی طاقت کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا موقف ایران کے برخلاف امریکی حمایت پر مبنی ہے اور ان کا عالمی برادری سے مطالبہ رہا ہے کہ وہ تیل کی فراہمی اور میری ٹائم تجارت کے دفاع کے لیے اقدامات کرے۔خیال رہے کہ 20 جولائی کو ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانوی تیل بردار جہاز کو مبینہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جس پر برطانیہ نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔برطانوی جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے معاملات کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے تھے اور امریکا سمیت دیگر طاقتیں بھی متحرک ہوگئی تھیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…