بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تارکین وطن کو ایک اور بڑا جھٹکا،سعودی عرب میں مزید20طرزکی اسامیاں غیر ملکیوں کیلئے ممنوع قرار،تفصیلات جاری

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی) سعودی عرب نے سیاحت کے شعبے میں تقریباً20اسامیاں غیر ملکیوں کیلئے ممنوع قرار دیدیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ پابندی تھری سٹار اور ان سے اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں  اور فرنشڈ اپارٹمنٹس پر بھی لاگو ہوگی۔ کوئی بھی غیر ملکی ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنٹس میں بکنگ، مارکیٹنگ، ڈپٹی مینیجر، سیلز سیکشن کا سربراہ، اسپورٹس کلب کا انچارج نہیں بن سکتا۔ یہ ساری اسامیاں سعودیوں کے لیے مخصوص کر دی گئی ہیں۔سعودی عرب کی بیشتر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی زندگی کے مختلف شعبوں

میں ملازمتیں کر رہے ہیں  لیکن حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی زیادہ تر ملازمتیں سعودی نوجوانوں کیلیے مختص کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔سعودائزیشن ملک کی قومی پالیسی بن چکی ہے اور اسی ضمن میں سیاحت کی مزید 20اسامیاں سعودیوں کیلیے مختص کر دی گئی ہیں۔اس پالیسی کے مطابق ہوٹلوں اور فرنشڈ اپارٹمنٹس کے استقبالیہ، ریستورانوں اور قہوہ خانوں میں ویٹر بھی سعودی ہی ہوں گے۔اس پابندی سے ڈرائیور، گیٹ کیپراور پورٹر مستثنیٰ ہوں گے۔2019ء کے اختتام سے پابندی شروع اور آئندہ برس 2020ء کے اختتام تک مکمل طور پر نافذ ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…