بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سعودی ہوائی اڈوں پر کئی زبانیں جاننے والے ترجمان تعینات

datetime 29  جولائی  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کی حکومت عازمین حج وعمرہ کے لیے نت نئی سہولیات متعارف کروا کر فرزندان توحید کے سفر حجاز کو باسہولت بنانے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف رہتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حج کے موقع پر دنیا بھر سے آئے عازمین کو مملکت میں قیام کے دوران عموما اپنی زبان میں مدعا بیان کرنے میں بڑی دِقت پیش آتی ہے مگر سعودی حکومت نے عازمین حج کا یہ مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا ہے۔سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر عازمین حج کی رہ نمائی کے لیے ایسے رضاکار اور مختلف زبانوں کے ماہر طلباء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو دوسرے ممالک سے

آنے والے عازمین حج کو ان کی زبان میں رہ نمائی فراہم کر رہے ہیں۔پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ جنرل سعودی عرب کی طرف سے ہوائی اڈوں پر 10 سے زاید زبانوں کے ماہر تعینات کیے گئے ہیں جو دوسرے ممالک سے آنے والے عازمین کی رہ نمائی کرتے ہیں۔مملکت کے ہوائی اڈوں پر غیر مْلکی زبانوں کے ماہرین اپنی متعلقہ زبان بولنے والوں کی رہ نمائی کرتے ہیں۔ اس طرح سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر انگریزی، ہسپانوی، انڈونیشی، جاپانی، فارسی، اردو اور ترکی کے ترجمان مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ ترجمان ہوائی اڈوں کے مسافر خانوں میں عازمین حج کا استقبال کرتے اور ان کی زبان میں ان کی رہ نمائی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…