بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ترکی نے اب تک ایف 35 لڑاکا جیٹ خرید نے کے لیے امریکا کو ایک ارب ڈالرز ادا کیے ہیں‘طیب اردوگان نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 5  جولائی  2019 |

استنبول(این این آئی)امریکا ا ور ترکی کے درمیان روس سے ایس -400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے معاملے پر تندوتیز بیانات جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ اگر امریکا طے شدہ سودے کے مطابق ایف 35 لڑاکا طیارے ترکی کو مہیا نہیں کرتا ہے تو یہ ایک ڈکیتی ہوگی۔صدر ایردوآن نے چین کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

اگر آپ کا کوئی گاہک ہے اور وہ آپ کو مشینی کام کی طرح رقم ادا کردیتا ہے تو آپ اس کو اشیاء دینے سے کیسے انکار کرسکتے ہیں۔اگر اس گاہک کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے تو اس کو ڈکیتی ہی کا نام دیا جاسکتا ہے‘‘۔انھوں نے بتایا کہ ترکی نے اب تک ایف 35 لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے امریکا کو ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں ، ان میں سے چار لڑاکا طیارے ترکی کے حوالے بھی کیے جاچکے ہیں۔ترک ہواباز یہ طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکا جانے والے تھے ۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے 116 ایف 35 لڑاکا جیٹ خرید کرنے کے لیے سمجھوتا کیا تھا ۔ہم صرف ایک مارکیٹ ہی نہیں بلکہ اس طیارے کے مشترکہ تیار کنندہ بھی ہیں ۔ ہم ترکی میں اس کے بعض آلات تیار کرتے ہیں۔ترک صدر نے جاپان کے شہر اوساکا میں گذشتہ ہفتے منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔اس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ جب روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی ترکی میں آمد شروع ہوجائے گی تو اس کے بعد وہ امریکا کی ضرررساں پابندیوں سے محفوظ رہے گا۔اگر امریکا ترکی کا ایف 35 پروگرام سے نام ہٹا دیتا ہے اور اس پر پابندیاں عاید کردیتا ہے تو یہ حالیہ تاریخ میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں یہ پہلی بڑی دراڑ ہوگی ۔صدر ٹرمپ خود صدر ایردوآن کے ساتھ اچھے مفاہمانہ تعلقات کا ا ظہار کرچکے ہیں ۔

وہ ترکی کو پابندیوں سے مستثنا قرار دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب وہ پابندیوں کو موخر کرانا چاہتے ہیں۔ اس سے ترکی تو خوش ہوگا لیکن کانگریس میں صدر ٹرمپ کو اپنے بعض اتحادیوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے ۔امریکا اوراس کے اتحادی ماضی میں متعدد مرتبہ اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے ہاں ایس-400 روسی نظام کو نصب نہ کرے کیونکہ

اس ٹیکنالوجی سے روس کو لڑاکا جیٹ کی اڑان کے بارے میں مکمل پتا چل جائے گا۔اس وقت دشمن کے راڈار اور گرمی کے سنسر ان طیاروں کا سراغ نہیں لگا سکتے۔لیکن ترک صدر امریکا اورا س کے اتحادیوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے تیار کردہ لڑاکا جیٹ ایف 35 کی وجہ سے نیٹو کی فورسز کو فضائی محاذ پر کئی لحاظ سے تکنیکی برتری حاصل ہے۔یہ دشمن کے مواصلاتی نیٹ ورکس اور فضائی سنگنلز کو تہس نہس کرسکتے ہیں۔ترکی امریکا سے معاہدے کے تحت اس وقت ایف -35 کے ایندھن کے حصے ، لینڈنگ گئیر اور کاک پٹ کے حصے تیار کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…