منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

قیدیوں کے لیے ناشتے کا 200 سال پرانا مینیو تبدیل

datetime 17  جون‬‮  2019 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسے جانے پر ڈھاکہ حکومت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہتا ہے مگر حال ہی میں بنگالی حکومت نے جیل اصلاحات کے ضمن میں قیدیوں کے لیے برطانوی استعمار کے دور کا 200 سال پرانا ناشتہ ختم کر کے قیدیوں کو نسبتا بہتر کھانا فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔بنگلہ دیش میں جیل امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر بزلور

رشید نے کہا ہے کہ ملک کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 81 ہزار ہے۔ ان کے ناشتے کا مینیو تبدیل کردیا گیا۔ نئے ناشتے میں متنوع اشیاء کا اضافہ کیا گیا ہے۔ 19 ویں صدی میں برطانوی سامراج کی جیلوں میں قیدیوں کو روٹی کے ساتھ گْڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے سوا قیدیوں کو اور کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ بنگالی حکومت بھی دو سو سال تک اسی پر عمل پیرا رہی ہے اور اب اس نے قیدیوں کے ناشتے میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔نئے مینیو میں روٹی کے ساتھ سبزی، پھل، سویٹس اور دال میں پکے چاول دیئے جائیں گے۔ ماضی قیدیوں کو 116 گرام روٹی اور 14 اعشاریہ 5 گرام گڑ دیا جاتا رہا ہے۔بنگلہ دیش کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ڈالنے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں ڈھاکا پر شدید تنقید کرتی رہتی ہیں۔ بنگالی جیلوں میں 35 ہزار سے زاید افراد کو رکھنے کی گنجائش نہیں مگر وہاں? پر بعض اوقات 60 سے 80 ہزار تک قیدیوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔بزلور رشید کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ناشتے کے ’مینیو‘ میں تبدیلی جیل خانوں اور قیدیوں کے حوالے سے اصلاحات کے عمل کا حصہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…