بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

عرب ممالک کو ایران سے دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں،سابق قطری وزیراعظم

datetime 9  جون‬‮  2019 |

دوحہ(این این آئی)قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیرخارجہ حمد بن جاسم آل ثانی نے سعودی عرب پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ گذشتہ ماہ مکہ معظمہ میں ہونے والی خلیج تعاون کونسل اور عرب سربراہ کانفرنسوں کے دوران قطری وزیراعظم نے اصولی موقف اختیارکیا تاہم بعد ازاں

قطر نے مکہ کانفرنسوں کے اعلامیوں پرتنقید کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا تھا۔برطانوی اخبارکو دئیے گئے انٹرویو میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے تمام رْکن ممالک کوبرابری کی بنیاد پرایک دوسرے کیساتھ معاملات استوار کرنا چاہئیں۔انہوںنے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاض دوحہ کی میزبانی میں 2022ء میں ہونے والے فٹبال کپ کی تیاریوں کو سبوتاڑ کرنے میں سرگرم ہے مگر وہ اس حوالے سے سعودی عرب کیخلاف اپنے دعوے کیلیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ایک سوال کے جواب میں سابق قطری وزیراعظم نے سعودی عرب پرشام کی خانہ جنگی کے حوالے غفلت برتنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ شام میں اسد رجیم کے خلاف سعودی عرب کی حمایت سیقائم ہونے والے اتحاد نے شام میں خانہ جنگی کی روم تھام اور پناہ گزینوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کیچھ رکن ملکوںبحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طبیعی نوعیت کے متوازن تعلقات کا قیام ضروری ہے، مگر سعودی عرب کی وجہ سے یہ اتحاد اپنے اصل مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔ایران کے ساتھ تعلقات کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حمد بن جاسم نے کہا کہ عرب ممالک کو ایران کے ساتھ دشمنی پالنے کی ضرورت نہیں۔ عرب ممالک کو خارجی دنیا تک پہنچنے کے لیے ایران کی بری، بحری اور فضائی حدود سے گذرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے کہنے پر دوسرے عرب ملکوںکو خود کشی نہیں کرنی چاہیے۔ ایران کے ساتھ متوازن تعلقات عرب ممالک کی ضرورت ہیں۔ جس طرح یورپی یونین کے رکن ممالک ایک دوسرے کیساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ اسی طرح عرب ممالک اور ایران کو اختلافات ختم کرنے آگے بڑھنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…