بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

اوپیک تیل فراہمی میں کمی کے معاہدے میں توسیع کے قریب پہنچ چکی ، خالد الفالح

datetime 8  جون‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے وزیر توانائی نے کہاہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک تیل فراہمی میں کمی کے معاہدے کو جون سے آگے توسیع پر غور کر رہی ہے، تاہم اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ان ملکوں کو کیسے راضی کیا جائے جو

اوپیک کے رکن نہیں ہیں۔یاد رہے اوپیک اور تنظیم سے باہر تیل برآمد کرنے والے ملکوں نے گذشتہ برس دسمبرمیں طے کیا تھا کہ وہ جنوری 2019سے جون 2019 تک تیل کی فراہمی میں 1.2 ملین بیرل یومیہ کمی کریں گے۔ ان ملکوں کا اجلاس آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے جس میں وہ اپنا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے روس کے شہر سینٹ پیٹسبرگ میں ایک اقتصادی فورم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوپیک کی جانب سے تیل فراہمی کمی کے معاہدے میں توسیع کا قوی امکان ہے، تاہم اصل معاملہ تیل برآمد کرنے والے ان ملکوں کا ہے جو باقاعدہ طور پر اوپیک تنظیم کے رکن نہیں، لیکن وہ تیل کے برآمدی کاروبار میں شریک ہیں۔مجھے امید ہے کہ تیل فراہمی میں کے معاہدے کو نئی مدت تک توسیع جا سکتی ہے، تاہم اگر یہ ممکن نہ ہوا تو مملکت اپنی شرائط میں نرمی دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تیل فراہمی میں مزید کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔اس سے قبل سعودی وزیر توانائی نے کہا تھا کہ وہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سے پہنچنے والے نقصان کو تین کی پیدا وار میں اضافے کے ذریعے پوراکرنے کی پالیسی کے حق میں نہیں کیونکہ2014-15کی حد تک تیل کی قیمتوں کو گرانا ان کے ملک کے قابل قبول نہیں ہے۔انجینئر فالح کے بقول تیل کی منڈی میں ابھی مکمل استحکام نہیں آیا۔ تیل کی قیمتوں پر اوپیک سے باہر کے عناصر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…