منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

اقلیتوں کا بھروسہ جیت کر فرضی خوف کا خاتمہ چاہتا ہوں، مودی

datetime 26  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں اتحادی جماعتوں کی کامیابی کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اتحاد کے تمام نومنتخب قانون سازوں پر اقلیتوں کے دماغ میں بیٹھے فرضی خوف کے خاتمے پر زور دیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق پارلیمنٹ کے مرکزی ہال میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے نومنتخب قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ

ہمیں اپنی اقلیتوں کا بھروسہ جیتنا ہے، اقلیت ایک فرضی خوف میں ہیں اور یہ خوف انہوں نے پیدا کیا جو ووٹ بینک کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں اس کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔انہوں نے اپنے نعرے میں تبدیلی لاتے ہوئے سب کا ساتھ، سب کے لیے ترقی میں اب سب کا بھروسہ کا اضافہ کیا۔انہوں نے قومی اتحاد کو بڑے پیمانے پر مینڈیٹ ملنے پر اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے قانون سازوں سے کہا کہ آپ نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔انہوں نے آزادی کے لیے 1857 کے جذبے کے بارے میں کہا کہ تمام برادریوں نے آزادی کے لیے ہاتھ ملائے تھے اور اس ہی طرح کی تحریک کا اب بھی آغاز ہونا چاہیے تاکہ بہترین حکمرانی سامنے آسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے ہم پر بھروسہ کیا اور جن کی وجہ سے ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔نریندر مودی نے کہا کہ 2019 کے انتخابات نے لوگوں کو یکجا کیا جبکہ دیگر انتخابات میں معاشرہ بٹ گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد عوام کی خدمت کرنے کے علاوہ کوئی بھی بہتر راستہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…