پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

2اہم عرب ممالک بھی لیبیا کی جنگ میں کود پڑے، قومی حکومت کی تنصیبات پر بمباری،حفترفوج کاجنگی جہاز روانہ

datetime 29  اپریل‬‮  2019 |

طرابلس(این این آئی)لیبیا میں جنرل ریٹائرڈ خلیفہ خفتر کی قیادت میں سرگرم فوج کی حمایت اورقومی وفاق حکومت کی مخالفت میں عرب ممالک نے طرابلس میں بمباری شروع کردی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز طرابلس میں ڈیڑھ ہفتے کے دوران آٹھ مقامات پر عرب جنگی طیاروں نے بمباری کی،

جواب میں قومی وفاق حکومت کی حامی فورسز نے جنگی طیاروں کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ دوسری جانب جنرل خلیفہ خفترکی فوج کی طرف سے طرابلس پر چڑھائی کو تیسرا ہفتہ جاری ہے۔ خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے کہا کہ اس نے ایک تیل کی بندرگاہ کی طرف سے ایک جنگی بحری جہاز بھی روانہ کیا ہے۔عینی شاہدین نے نیوز ایجنسیوں کو بتایا کہ انہوں نے طرابلس کی فضاء میں جنگی طیاروں کی آوازیں سنائی دیں۔ ذرائع کے مطابق یہ عرب ممالک کے جنگی طیاروں کی آوازیں تھیں جنہوں نے طرابلس میں کئی مقامات پر بم برسائے اور قومی وفاق حکومت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا نے دو عرب ممالک پر طرابلس میں بمباری کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طرابلس پر بمباری کرنے والے طیارے ایک عرب ملک کے تھے جو لیبیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کا دفاع جاری رکھیں گے۔ فتح باغاشا نے فرانس پرزور دیا کہ وہ جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت ترک کرے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا ساتھ دے۔ لیبیا میں جنرل ریٹائرڈ خلیفہ خفتر کی قیادت میں سرگرم فوج کی حمایت اورقومی وفاق حکومت کی مخالفت میں عرب ممالک نے طرابلس میں بمباری شروع کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…