پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

تیل پر پابندیاں کے بعد ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن کے درمیان ٹی وی پرگرما گرمی،بات بڑھ گئی

datetime 29  اپریل‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا کی جانب سے ایران سے تیل کی خریداری پر نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور دونوں ملکوں کی قیادت ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کررہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ روز امریکا کے ٹیلی ویڑن چینل پر ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن کے درمیان ایرانی تیل پر پابندیوں کی وجہ سے گرما گرم بحث ہوئی۔

دونوں رہ نماؤں نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی اورایک دوسرے کو ان پابندیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران سے تیل کی خریدرای پر پابندی کے امریکی فیصلے سے خود امریکا کے اتحادی مایوس ہوئے ہیں۔جواد ظریف نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایرانی تیل کی خریداری پر پابندی کے فیصلے سے مایوسی کاسامناکرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا ہمارے پاس امریکی فیصلے کے خلاف مزاحمت کیکئی راستے موجود ہیں۔ چین، روس، ترکی اور فرانس بھی امریکی فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن کا کہنا تھاکہ امریکا اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو موثر بنائے گا۔ انہوں نے ایرانی وزیرخارجہ کا وہ دعویٰ مسترد کردیا کہ امریکی فیصلے سے امریکا اور اس کیاتحادیوں کو مایوسی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی خطہ ایران کے میزائل پروگرام سے سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ اس لیے یورپی ممالک ہمارے ساتھ ایران کے خلاف اقدامات میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ امریکا کی جانب سے ایران سے تیل کی خریداری پر نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور دونوں ملکوں کی قیادت ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…