منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بڑے پیمانے پر ایرانی شہریوں نے یورپی ملکوں میں پناہ حاصل کرنا شروع کردی،صرف گزشتہ برس میں ہی کتنے ہزار ایرانی شہری ملک چھوڑ گئے؟، رپورٹ

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

تہران (آن لائن) سال 2018 کیدوران ایران سے نقل مکانی اور یورپی ملکوں میں پناہ کے حصول کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک رپورٹ کیمطابق گذشتہ برس 10 ہزار ایرانی باشندوں نے یورپی ممالک میں پناہ حاصل کی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  2018 کیدوران یورپی ملکوں کی طرف سے 333400 پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستوں کی منظوری دی گئی۔ان میں شام، عراق، افغانستان اور مشرق وسطی کے ممالک کیپناہ گزین شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد ملک میں جاری معاشی بحران بتایا جاتا ہے۔ حکومتی عمال کی کرپشن، قومی خزانیکی

لوٹ ماراور عوام کو بنیادی معاشی حقوق سے بھی محروم کیاجا رہا ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ یورپی ملکوں کو نقل مکانی پر مجبور ہو رہیہیں۔رپورٹ کے مطابق 2018 کیدوران اس سے پچھلے سال کی نسبت پناہ گزینوں کی 40 فی صد کم درخواستوں پرعمل درآمد کیا گیا۔ سال 2017 کے دوران 53300 پناہ گزینوں کی درخواستوں کی منظوری دی گئی تھی۔ سال 2018 کے دوران مجموعی طورپر شام سے 96100 پناہ گزین یورپ داخل ہوئے۔ اس کے بعد افغانستان کے43500 اور عراق کے 24600 جبکہ ایران کے 10 ہزار شہریوں نے یورپی ممالک میں پناہ حاصل کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…