اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

نیوزی لینڈ مساجد حملہ، بنگلہ دیشی خاتون شوہر کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئی

datetime 16  مارچ‬‮  2019 |

کرائسٹ چرچ (آن لائن) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کے دوران ایک بنگلہ دیشی خاتون بھی شوہر کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئی۔نیوزی لینڈ کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد النور میں 15 مارچ کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں اب تک 49 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ متعدد کے زخمی اور لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس واقعے نے دنیا بھر کے حساس دل لوگوں کو رلادیا اور کئی لوگ جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدریاں کرتے دکھائی دیے۔مسجد پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا جہاں حملے کے مرکزی ملزم 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں بھی پیش کیا گیا، جہاں ان پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے۔حملے میں جہاں عمر رسیدہ افراد، کم سن اور نوجوان اور ادھیڑ عمر کے افراد جاں بحق ہوئے، وہیں کم سے کم ایک خاتون بھی جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔اس واقعے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت بنگلہ دیش کی 42 سالہ حسنیٰ آرا پروین کے نام سے ہوئی ہے جو دراصل اپنے مجازی خدا یعنی شوہر کو بچاتے ہوئے قاتل کی گولیوں کا نشانہ بنیں۔ نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 42 سالہ حسنیٰ آرا پروین اس وقت گولیوں کا شکار بنیں جب وہ فائرنگ کی آواز سن کر اپنے معذور شوہر کو بچانے کے لیے پہنچیں۔ رپورٹ میں بنگلہ دیش کی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حسنیٰ آرا پروین کے شوہر فریدالدین احمد معذور ہیں اور وہ ویل چیئر کے سہارے چلتے پھرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حسنیٰ آرا پروین النور مسجد کے خواتین کے سیکشن میں نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھیں کہ اچانک فائرنگ ہوئی اور وہ جلدی سے مرد حضرات کے سیکشن میں شوہر کی حفاظت کے لیے دوڑیں۔

اپنے معذور شوہر کو گولیوں سے بچانے کے لیے دوڑ کر آنے والی حسنیٰ آرا پروین بدقسمتی سے قاتل کی اندھی گولیوں کا نشانہ بنیں اور موقع پر ہی چل بسیں۔بنگلہ دیش کی اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے حسنیٰآرا پروین کے بھتیجے محفوظ چوہدری کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیشی نژاد خاتون شوہر کو بچاتے ہوئے ماری گئیں، تاہم ان کے شوہر محفوظ رہے۔ رپورٹ کے مطابق اتفاق سے فرید الدین احمد قاتل کی گولیوں سے زندگی کی بازی ہارنے سے بچ گئے، تاہم ان کی اہلیہ انہیں بچاتے بچاتے موت سے جا ملیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسنیٰ آرا پروین اپنے اہل خانہ سمیت 1994 میں بنگلہ دیش سے نیوزی لینڈ منتقل ہوئیں۔ حسنیٰ آرا پروین اور ان کے شوہر فرید الدین احمد ہر جمعے کو اسی مسجد میں نماز کی ادائگی کے لیے آتے تھے۔ حسنیٰ آرا پروین کی قربانی نے دنیا بھر کی خواتین کو جذباتی کردیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…