جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری، سیلاب کا خدشہ

datetime 25  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی)نے 25 سے 30 ستمبر کے

دوران ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ای او سی کے مطابق مغربی ہوائوں کا نیا موسمیاتی سلسلہ بالائی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے جس کی شدت میں 25 اور 26 ستمبر کے دوران مزید اضافے کا امکان ہے۔ اس سلسلے کے تحت بالائی خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں اچانک طغیانی (فلیش فلڈنگ)اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔گلگت بلتستان کے اضلاع استور، سکردو، روندو، گھانچے اور شگر، آزاد کشمیر کی نیلم ویلی، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات، باجوڑ، دیر، کوہستان، کولئی پالس، بٹگرام اور مانسہرہ میں ندی نالوں کے بپھرنے کا شدید خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پشاور، مردان، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، بنوں، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی تیز بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق 30 ستمبر تک خطہ پوٹھوہار، مری و گلیات سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک، ژالہ باری اور موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، اٹک اور چکوال سمیت متعدد شہروں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ صوبائی اور ضلعی انتظامی اداروں کو الرٹ رہنے، حساس مقامات پر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور درکار مشینری پہلے سے تعینات رکھنے اور پانی کے بہا کی ہمہ وقت مانیٹرنگ کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔اتھارٹی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران برساتی نالوں، سیلابی ریلوں اور زیرِآب سڑکوں سے گزرنے سے گریز کریں اور نشیبی علاقوں میں پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہریوں کو بروقت اور مصدقہ موسمی معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رہنمائی لینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…