اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکا میں ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مقبول GLP-1 ادویات کے حوالے سے بینائی متاثر ہونے کے دعوے سامنے آنے کے بعد 90 سے زائد افراد نے دوا
ساز کمپنیوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کردیے۔درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ مذکورہ ادویات کے استعمال کے بعد بعض افراد کی بینائی شدید متاثر ہوئی جبکہ کچھ افراد کے مطابق وہ نظر سے محروم ہوگئے۔ متاثرہ افراد نے اپنی درخواستوں میں ادویات کے استعمال اور بینائی کے مسائل کے درمیان تعلق کا الزام عائد کیا ہے۔مقدمات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ GLP-1 ادویات کے استعمال کے نتیجے میں بعض افراد NAION (Non-Arteritic Anterior Ischemic Optic Neuropathy) نامی نایاب بیماری کا شکار ہوئے۔ طبی اصطلاح میں اسے آپٹک نرو کو نقصان پہنچانے والی ایک کیفیت قرار دیا جاتا ہے جبکہ عام طور پر اسے ’’آنکھ کا فالج‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جو بعض صورتوں میں مستقل بینائی کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
تاہم طبی ماہرین کے مطابق اب تک ایسے حتمی سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہوئے جن سے یہ ثابت ہو کہ GLP-1 ادویات براہِ راست NAION کا سبب بنتی ہیں۔ کچھ مطالعات میں اس بیماری کے خطرے میں معمولی اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ دیگر تحقیقات میں ادویات اور بینائی کے نقصان کے درمیان واضح تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔یورپی میڈیسنز ایجنسی کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے ہر 10 ہزار افراد میں تقریباً ایک شخص کو اس نوعیت کی بینائی کی بیماری لاحق ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔GLP-1 گروپ میں شامل ادویات میں اوزیمپک اور ویگووی بھی شامل ہیں، جنہیں ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کم کرنے جبکہ وزن گھٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خون میں شوگر کی سطح میں تیزی سے تبدیلی آنکھ کے لینس کو عارضی طور پر متاثر کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں نظر دھندلی ہونے کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ عموماً چند ماہ کے اندر بہتر ہوجاتا ہے۔طبی ماہرین نے GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد، بالخصوص ذیابیطس کے مریضوں، کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہیں۔ اگر نظر میں اچانک یا غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رابطہ کرنا چاہیے۔



















































