اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، خواجہ آصف کا بڑا بیان آگیا

datetime 27  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا آئینی راستہ موجود ہے، تاہم ان کے مطابق یہ ایک ناپسندیدہ عمل تصور کیا جاتا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوران گورنر راج سے متعلق سوال پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئین میں یہ اختیار پہلے سے موجود ہے، تاہم ان کے نزدیک اسے استعمال کرنا کوئی پسندیدہ طریقہ نہیں۔

پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید مارچ کے لیے مطلوبہ ’’بھتہ‘‘ جمع نہیں ہوسکا، اسی لیے اسے ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید طنزیہ دعویٰ کیا کہ ممکن ہے ایک ہفتے بعد مارچ ہی منسوخ کردیا جائے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بعض بڑے ناموں کی گرفتاریوں سے متعلق ’’فرمائشی گرفتاریوں‘‘ کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی ممکنہ طور پر جلد لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرسکتی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں پارٹی نے مارچ کے لیے مطلوبہ تیاری نہیں کی تھی۔ انہوں نے صوبے میں دہشت گردی، لاقانونیت اور کرپشن سے متعلق بھی الزامات عائد کیے اور سوال اٹھایا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے بجائے صوبے کے انتظامی معاملات پر توجہ کیوں نہیں دی جارہی۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے پی ٹی آئی لانگ مارچ کو مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے تمام معاملات پر مشاورت کے بعد نئی تاریخ پر اتفاق کیا۔

یوں گورنر راج سے متعلق حکومتی حلقوں کے بیانات اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی نئی تاریخ کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بحث مزید بڑھ گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…