اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن سیاستدانوں، صحافیوں ، نمایاں شخصیات کو100 دھمکی آمیز ای میلز موصول

datetime 15  مارچ‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)حالیہ کچھ عرصے کے دوران جرمن سیاستدانوں، صحافیوں اور نمایاں شخصیات کو ایک سو سے زائد دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی ہیں ، تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ان ای میلز کے پس پردہ نیو نازی ہو سکتے ہیں۔جرمن ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ملک بھر میں بم کے استعمال کی دھمکیوں پر مبنی ای میلز کی ذمہ داری ایک مشتبہ نیو نازی انتہا پسند یا انتہا پسندوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔

تفتیش کاروں نے بھی ایسا ہی خیال ظاہر کیا کیونکہ ان ای میلز کے اختتام پر دستخط کا انداز نیو نازی نشانات جیسا ہے۔ ان ای میلز کا اختتام این ایس یو سے ہوتا ہے۔اس اصطلاح سے مراد نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ لیا جاتا ہے۔ مختلف سیاستدانوں، شخصیات اور صحافیوں کو بھیجی گئی ان ای میلز کی رپورٹنگ حکومتی میڈیا اداروں نے کی ہے۔ بم استعمال کرنے کی دھمکیاں ایک جنوبی شہر لْوبیک کے ریلوے اسٹیشن اور مغربی شہر گیلزن کرشن کے دفتر مالیات کے لیے دی گئی تھیں۔ ان دونوں مقامات کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا تھا لیکن تلاشی کے باوجود وہاں کوئی دھماکا خیز مواد نہ ملا۔جرمنی کی سوشلسٹ بائیں بازو کی رکن پارلیمان مارٹینا رینر کو موصول ہونے والی ای میل میں لوبیک ریلوے اسٹیشن اور گیلزن کرشن کی عمارت میں بم نصب کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی۔ اسی ای میل میں بینکوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دوسرے ریاستی اداروں کو بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر عام راہ گیروں کو ہلاک کرنے، لیٹر بم روانہ کرنے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی اس ای میل میں شامل تھی۔یہ ای میلز یہودیوں کی سینٹرل کونسل کے اراکین کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک ای میل گلوکارہ ہیلین فشر کو بھی ملی۔ فشر نے گزشتہ برس کیمنٹس شہر میں انتہائی دائیں بازو کے ہنگاموں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس ایک جرمن شہر فرینکفرٹ کی ترک نڑاد جرمن رہائشی اور خاتون وکیل سیدا باسی یلدز کو بھی این ایس یو کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی اور اس میں اْن کی دو سالہ بیٹی کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔جرمن تفتیش کاروں کے مطابق بظاہر کسی مقام پر بم نصب نہیں کیا گیا لیکن تمام دھمکیاں ورچوئل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…