پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

جرمن سیاستدانوں، صحافیوں ، نمایاں شخصیات کو100 دھمکی آمیز ای میلز موصول

datetime 15  مارچ‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)حالیہ کچھ عرصے کے دوران جرمن سیاستدانوں، صحافیوں اور نمایاں شخصیات کو ایک سو سے زائد دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی ہیں ، تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ان ای میلز کے پس پردہ نیو نازی ہو سکتے ہیں۔جرمن ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ملک بھر میں بم کے استعمال کی دھمکیوں پر مبنی ای میلز کی ذمہ داری ایک مشتبہ نیو نازی انتہا پسند یا انتہا پسندوں پر عائد کی جا سکتی ہے۔

تفتیش کاروں نے بھی ایسا ہی خیال ظاہر کیا کیونکہ ان ای میلز کے اختتام پر دستخط کا انداز نیو نازی نشانات جیسا ہے۔ ان ای میلز کا اختتام این ایس یو سے ہوتا ہے۔اس اصطلاح سے مراد نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ لیا جاتا ہے۔ مختلف سیاستدانوں، شخصیات اور صحافیوں کو بھیجی گئی ان ای میلز کی رپورٹنگ حکومتی میڈیا اداروں نے کی ہے۔ بم استعمال کرنے کی دھمکیاں ایک جنوبی شہر لْوبیک کے ریلوے اسٹیشن اور مغربی شہر گیلزن کرشن کے دفتر مالیات کے لیے دی گئی تھیں۔ ان دونوں مقامات کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا تھا لیکن تلاشی کے باوجود وہاں کوئی دھماکا خیز مواد نہ ملا۔جرمنی کی سوشلسٹ بائیں بازو کی رکن پارلیمان مارٹینا رینر کو موصول ہونے والی ای میل میں لوبیک ریلوے اسٹیشن اور گیلزن کرشن کی عمارت میں بم نصب کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی۔ اسی ای میل میں بینکوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دوسرے ریاستی اداروں کو بم سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر عام راہ گیروں کو ہلاک کرنے، لیٹر بم روانہ کرنے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی اس ای میل میں شامل تھی۔یہ ای میلز یہودیوں کی سینٹرل کونسل کے اراکین کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک ای میل گلوکارہ ہیلین فشر کو بھی ملی۔ فشر نے گزشتہ برس کیمنٹس شہر میں انتہائی دائیں بازو کے ہنگاموں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس ایک جرمن شہر فرینکفرٹ کی ترک نڑاد جرمن رہائشی اور خاتون وکیل سیدا باسی یلدز کو بھی این ایس یو کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی اور اس میں اْن کی دو سالہ بیٹی کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔جرمن تفتیش کاروں کے مطابق بظاہر کسی مقام پر بم نصب نہیں کیا گیا لیکن تمام دھمکیاں ورچوئل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…