ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

طالبان کی شمالی افغانستان میں پیش قدمی،تل کنوؤں پر قبضے کا خدشہ، حکومت پریشان

datetime 21  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل(این این آئی)طالبان افغانستان کے شمال میں واقع صوبائی دارالحکومت سرپل کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں، طالبان تیل کے کنوؤں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں جبکہ طالبان اس شہر کے مضافات میں واقع علاقوں کو پہلے ہی اپنی گرفت میں لے چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

طالبان عسکریت پسندوں نے سرپل پر قبضے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں۔ جبکہ وہ اس علاقے میں موجود تیل کے کنوؤں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان اس طرح امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط تر بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔سرپل کے گورنر کے ایک ترجمان ذبیح اللہ امینی کا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ سرپل کی صورت حال ویسے ہی نازک ہے لیکن اب طالبان نے قریبی علاقوں پر بھی حملے شروع کر دئیے ہیں۔ امینی کا مزید کہنا تھاکہ کئی خاندان سرپل کے شہر کے مرکز میں موجود ہیں اور ان کی حالت بہت ہی خراب اور خستہ ہے کیوں کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے سامان نہ ہونے کے برابر ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں طالبان کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے اور شہروں کے مضافاتی دیہی علاقوں میں ان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی فورسز کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں اور وہ شکستہ دلی کے ساتھ طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دریں اثناء طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث درجنوں خاندان بھی بے گھر ہو گئے ۔ ایسے ہی تقریبا چالیس خاندان کوہستان سے سرپل پہنچے ہیں۔ یہ ضلع طالبان کے زیر قبضہ ہے اور بھاگ کر آنے والے یہ خاندان سخت سردی میں سرپل کی مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سخت سردی کی وجہ سے داخلی سطح پر ہجرت کرنے والے ایسے مہاجرین کی زندگی مزید مشکلات شکار ہو رہی ہے اور حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے،ان بے گھر ہونے والے افراد کے مطابق طالبان ان خاندانوں کو علاقہ بدر کر رہے ہیں، جن کے بارے میں انہیں شک ہے کہ یہ حکومت کے لیے نرم جذبات رکھتے ہیں یا پھر جن کے خاندانوں کے مرد حکومتی فورسز کے لیے کام کرتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…