ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ڈنمارک : شہریت کے حصول کے لیے صنفی تفریق کے بغیر مصافحہ لازم

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

کوپن ہیگن (این این آئی )ڈنمارک میں متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت شہریوں کو پابند کیا گیا ہے کہ انہیں شہریت کے حصول کی دستاویزات پیش کیے جانے کی تقریب میں میئر یا کسی بھی سرکاری عہدے دار سے ہاتھ ملانا ہو گا۔ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون نے

اس کے مخالفین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جو قانون کو مسلمان مرد اور خواتین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب قانون کے حامی عناصر اسے محض مساوات اور برابری کو یقینی بنانے کا اقدام شمار کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈنمارک میں ہجرت اور انضمام کے امور کی خاتون وزیر انگر اسٹوئیبرگ کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ ہم سے ہاتھ نہیں ملائیں گے تو ہم ان افراد کو شہریت پیش نہیں کر سکتے۔ جب یہ لوگ ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں اس وقت انسان ڈنمارک کا شہری ہوتا ہے ، اس سے پہلے اور بعد نہیں۔اسٹوئیبرگ نے مزید کہا کہ مخالف جنس سے ہاتھ نہ ملانے کی خواہش سمجھ سے بالا تر ہے،ہم مساوات کے قائل ہیں اور ہم اسے کئی نسلوں سے یقینی بنا رہے ہیں۔ ہم نے اس واسطے مزاحمت کی ہے اور اب اس کا تحفظ اور اس کے لیے احترام کا اظہار نا گزیر ہے۔ڈنمارک میں کنزریٹو پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس قانون کو بعض حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف شمار کیا ہے۔ مقامی بلدیات کے کئی عہدے داران نے بھی اس کی مخالف کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…