اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ڈنمارک : شہریت کے حصول کے لیے صنفی تفریق کے بغیر مصافحہ لازم

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

کوپن ہیگن (این این آئی )ڈنمارک میں متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت شہریوں کو پابند کیا گیا ہے کہ انہیں شہریت کے حصول کی دستاویزات پیش کیے جانے کی تقریب میں میئر یا کسی بھی سرکاری عہدے دار سے ہاتھ ملانا ہو گا۔ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قانون نے

اس کے مخالفین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جو قانون کو مسلمان مرد اور خواتین کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب قانون کے حامی عناصر اسے محض مساوات اور برابری کو یقینی بنانے کا اقدام شمار کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈنمارک میں ہجرت اور انضمام کے امور کی خاتون وزیر انگر اسٹوئیبرگ کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ ہم سے ہاتھ نہیں ملائیں گے تو ہم ان افراد کو شہریت پیش نہیں کر سکتے۔ جب یہ لوگ ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں اس وقت انسان ڈنمارک کا شہری ہوتا ہے ، اس سے پہلے اور بعد نہیں۔اسٹوئیبرگ نے مزید کہا کہ مخالف جنس سے ہاتھ نہ ملانے کی خواہش سمجھ سے بالا تر ہے،ہم مساوات کے قائل ہیں اور ہم اسے کئی نسلوں سے یقینی بنا رہے ہیں۔ ہم نے اس واسطے مزاحمت کی ہے اور اب اس کا تحفظ اور اس کے لیے احترام کا اظہار نا گزیر ہے۔ڈنمارک میں کنزریٹو پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس قانون کو بعض حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف شمار کیا ہے۔ مقامی بلدیات کے کئی عہدے داران نے بھی اس کی مخالف کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…