ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مصر انٹرپول کی مدد سے اسمگل شدہ 32 ہزار نوادرات واپس لینے میں کامیاب

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی)مصرکی حکومت نے بین الاقوامی اداروں بالخصوص انٹرپول کی مدد سے اسمگل شدہ ہزاروں قیمتی نوادرات واپس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مصری وزارت آثار قدیمہ کی طف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ گذشتہ کئی عشروں سے

ملک کے عجائب گھروں اوردیگر تاریخی مراکز سے ہزاروں قیمتی نوادرات چوری ہونے کے بعد بیرون ملک اسمگلنگ کی گئی۔ موجودہ حکومت نے انٹرپول اور دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت سے 32 ہزار 638 قیمتی نوادرات واپس حاصل کرلی ہیں۔وزارت آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ اسمگل کی گئی نوادرات کا 90 فی صد کا وزارت آثاریات میں اندراج تک نہیں ہوا جب کہ بعض نودرات کو اسمگل ہوئے50 سال تک گذر گئے۔ 25 جنوری 2011ء کے انقلاب کے دوران آخری باربڑی تعداد میں قیمتی نوادرات چوری کی گئیں اور انہیں عالمی اسمگلروں کی مدد سے بیرون ملک فروخت کیا گیا۔مصر کے وزیر برآئے آثار قدیمہ ڈاکٹر خالد العنانی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت عالمی نیلامی فورمز کے ساتھ مصر کی چوری کی گئی نوادرات کی واپسی کے لیے رابطے میں ہے۔ ہمیں جہاں بھی مصر کی نوادرات کی موجودگی کا پتا چلتاہے ہم انہیں واپس کرانے کے لیے قان نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بعض نودارات اسرائیل اسمگل کی گئی تھیں اور وہاں سے بھی انہیں واپس لایا گیا ۔ادھر مصری کابینہ نے آثار قدیمہ کے حوالے سے انکشاف کیا کہ 2018ء کے دوران 222 تاریخی نوادرات اور 21 ہزار 660 دھاتی سکے واپس لائے گئے۔ کابینہ کا کہنا تھا کہ مصری نوادرات کی واپسی میں دوسرے ممالک کی حکومتوں نے قاہرہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…