ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتیوں نے سوشل میڈیا پر زیادہ لائیکس کیلئے اپنی فوج کو بھی نہ بخشا ایسا کام کر دیا جس نے تصاویروں کے پیچھے چھپا پول کھل کر رکھ دیا بھارت دنیا کے سامنے شرمندہ ہو گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی اپنے فوجیوں کو دنیا کی سخت جان فوج دکھانے کی ایک اور چال اْس وقت ناکام ہوگئی، جب زیادہ سے زیادہ لائیکس اور توجہ حاصل کرنے کے لیے فوجیوں کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلادی گئیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق13 ہزار فٹ بلندی پر واقع گلیشیئر پر موجود فوجیوں کی کچھ تصاویر کے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ بھارتی فوجی ہیں، تاہم برطانوی میڈیا کی تحقیق میں بھارتی پروپیگنڈے کا پول کھل گیا اور جن فوجیوں کی تصاویر شیئر کی گئیں

وہ غیر ملکی نکلے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر کو بنگالی زبان کے ایک فیس بک پیج پر پاکستانی سرحد پر تعینات بھارتی خواتین فوجیوں کی تصویر بتا کر شئیر کیا گیا، جسے 3 ہزار سے زیادہ افراد نے سوشل میڈیا پر شئیر کیا۔لیکن یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا اور یہ تصویر دراصل کردستان کے پیشمرگا جنگجوؤں کی نکلی۔انڈین واریئرنامی ایک فیس بک نے برف سے ڈھکے چہرے کے ساتھ اس شخص کی تصویر کو بھارتی فوجی کی تصویر بتا کرشیئر کیا جسے سیکڑوں فیس بک پیجز اور ٹوئٹر ہینڈلز نے آگے بڑھایا، لیکن اس جھوٹے دعوے کی بھی قلعی کھل گئی۔یہ تصویر دراصل امریکی سرفر اور تیراک ڈین شکیٹر کی نکلی، جو مشی گن کی سپریئر جھیل میں منفی 30 ڈگری درجہ حرارت میں سرفنگ کے دوران لی گئی تھی۔منفی 50 ڈگری میں سیاچن گلیشیئر پر فرائض سرانجام دیتے مبینہ بھارتی فوجی کی ایک تصویر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمان کرن کھیر اور بالی وڈ اداکارہ شردھا کپور نے شئیر کیا۔تاہم ان جھوٹے دعووں کا بھی پول کھل گیا۔ درحقیقت یہ تصاویر 2013 میں روس کی اسپیشل فورس کی تربیت کے دوران لی گئی تھیں۔واضح رہے کہ 2014 میں یہ تصاویر یوکرائن میں یوکرائنی بہادر فوجیوں کے نام سے وائرل ہوئی تھیں، تاہم اس دعوے کو یوکرائنی فیکٹ چیک ویب سائٹ نے ایک آرٹیکل اسٹاپ فیک کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے ان کی روسی فوجیوں کی حیثیت سے تصدیق کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…