ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ناروے کے وزیراعظم نے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کو بڑی پیشکش کردی

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

نئی دلی(این این آئی)ناروے کی وزیر اعظم ایرنا سوُل برگ نے کہا ہے کہ ناروے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایرنا سوُل برگ نے این ڈی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ تنازعہ کشمیر کاکوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس سلسلے میں عوامی حمایت بھی اہم ہے ۔

گزشتہ سال نومبر میں ناروے کے سابق وزیر اعظم Kjell Magne Bondevik نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران حریت رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ اپنے نجی دورے کے دوران وہ آزاد کشمیر بھی گئے تھے اور آزاد کشمیرکی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ایرنا سوُل برگ نے مسٹرBondevik کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ تنازعہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتی کہ اس طر ح کی صورتحال کا کوئی فوجی حل ممکن ہے اور ہمیں عوامی حمایت کی بھی ضرورت ہے ۔خواتین اور نوجوانوں کو امن عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ناروے کی وزیر اعظم نے کہا کہ ناروے کے پاس تنازعا ت کے حل کا وسیع تجربہ ہے اور مسٹرBondevik نے چند سال قبل سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے ساتھ تنازعہ کے حل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے بارے میں ناروے کے کردار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق چاہیں تو ناروے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا چاہیے ۔ اگر دونوں ممالک چاہئیں تو ناروے اس سلسلے میں ثالثی اور سہولت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کو اسلحے کی ڈور اور فوجی اخراجات میں کمی کرنی چاہیے اور یہ رقم صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں کی بہتری پرخرچ کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے مذید کہاکہ دونوں ملکوں کو کشیدگی میں بھی کمی کی کوشش کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…