ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

لیبیا میں قذافی کے خلاف جو ہوا وہ بغاوت نہیں ، جنگ تھی، قذاف الدم

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

طرابلس (این این آئی )لیبیا کے مقتول لیڈر معمر القذافی کے چچا زاد احمد قذاف الدم نے کہا ہے کہ لیبیا میں جو کچھ ہوا وہ عوامی بغاوت نہیں ایک جنگ تھی جس نے سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔ لیبیا کو قذافی کے حامی متحدہ رکھ سکتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق احمد قذاف الدم نے کہا کہ قذافی کے حامی قبائل اور دیگر قوتیں تیونس میں قومی اتفاق رائے اور قومی یکجہتی کے لیے ہونے والی کانفرنس میں

بھرپور شرکت کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں احمد قذاف الدم نے کہا کہ لیبیا کے تقریبا تمام طبقات اور نمائندہ قوتیں تیونس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جماعت نہیں بلکہ 11 تنظیموں اور کئی قبائل پرمشتمل اتحاد ہیں۔احمد قذاف الدم کا کہنا تھا کہ لیبیا کو موجودہ افراتفری سے نکا  اور بچانے کوا بہتر ذریعہ یہی ہے کہ ہم سب متحد ہو جائیں۔ اس لیے ہم نے تیونس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپیل کرتے ہیں کہ کرنل قذافی کے دور حکومت ان کے ساتھ رہنے والی لیبی قیادت کو اندرون اور بیرون ملک جہاں بھی ہے رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کا اصل ہدف لیبیا کا استحکام اور اس کی خوش حالی ہے۔احمد قذاف الدم نے لیبیا کے موجودہ حکمران طبقے پر شدید تنقید کی اور ان کی آئینی حیثیت کو بھی مشکوک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں جو کچھ ہوا وہ انقلاب نہیں بلکہ بیرون ملک سے مسلط کی گئی ایک جنگ تھی۔ غیرملکی میزائل آئینی حیثیت حاصل نہیں کرسکتے۔ اس لیے غیروں کے اشاروں پر لیبیا میں حکومت کرنے والوں کوہم نے مسترد کردیا ہے۔کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام القذافی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں احمد قذاف الدم کا کہنا تھا کہ سیف الاسلام لیبیاکے لیڈر ہیں۔ انہوں نے قید کاٹی اور معافی پر رہائی حاصل کی۔ وہ لیبیا کو مستحکم اور پرامن رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…