ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کا دومختلف مقامات پر حملوں میں 34افغان پولیس اہلکارہلاک کرنے کا دعویٰ

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)افغان حکام نے کہاہے کہ شدت پسند گروپ طالبان کے سیکیورٹی مراکز پرحملوں میں پولیس اہلکاروں اور حکومت کے حامی جنگجوؤں سمیت 21 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ لڑائی میں 15 طالبان جنگجو بھی ہلاک اور دس زخمی ہوئے،دوسری جانب طالبان کے ترجمان

قاری یوسف احمدی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد دعویٰ کیا ہے اورکہاہے کہ طالبان کے حملوں میں 34 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ طالبان نے پولیس چوکیوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی لوٹ لیا ہے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ترکمانستان کی سرحد پر واقع بادغیس صوبے میں دو الگ الگ مقامات پر طالبان نے پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا۔بادغیس کی صوبائی کونسل کے چیئرمین عبدالعزیز بیک نے کہا کہ طالبان کے حملوں میں 14 پولیس اہلکار اور حکومت نواز ملیشیا کے 7 ارکان ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔صوبائی گورنر کے ترجمان جمشید شہابی نے ایک بیان میں کہا کہ لڑائی میں 15 طالبان جنگجو ہلاک اور دس زخمی ہوئے ۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ طالبان کے حملوں میں ن 34 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے پولیس چوکیوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی لوٹ لیا ہے۔ملک کے مغربی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں نے پولیس چوکیوں پر حملے کیے جن کے نتیجے میں دو درجن کے قریب پولیس اہلکار اور حکومت نواز جنگجو مارے گئے۔ طالبان کی جانب سے یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دوسری جانب افغان حکومت طالبان کے ساتھ امن بات چیت کی بحالی کی کوشش کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…