ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دریا میں سونا تلاش کرنے والے30 افغان شہری عبرتناک موت کا شکار بن گئے، متعدد لاپتہ

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

کابل(این این آئی)افغانستان میں ایک دریا میں سونا تلاش کرنے والے کم از کم تیس شہری اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صوبائی حکام نے بتایاکہ یہ واقعہ شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں پیش آیا۔ متعد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ بدخشاں کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے قریب 110 کلومیٹر (68 میل) دور ضلع کوہستان میں 50 کے قریب افغان شہری ایک دریا میں سونا تلاش کر رہے تھے کہ اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں پانی کے تیز ریلوں میں بہہ گئے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان نیک محمد نذری نے بتایا کہ یہ دیہاتی غیر قانونی طور پر اس دریا میں ایک ایسے جگہ پر کھدائی کر کے بہت نیچے تک چلے گئے تھے، جہاں ماضی میں بھی سونے کی تلاش کے لیے کھدائی کی گئی تھی۔اسی دوران صوبے میں ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں دریا میں اچانک سیلاب آ گیا، تو ان درجنوں افراد کو سونے کی زیر زمین غیر قانونی کان سے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ نذری نے بتایاکہ کم از کم 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر سیلابی پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔اس کے برعکس بدخشاں کی صوبائی پارلیمان کے ایک رکن نے بتایا کہ اس واقعے میں مرنے والوں کی کل تعداد 40 ہو چکی ہے۔ صوبائی پولیس کے ترجمان ثنااللہ روحانی نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے سات کی حالت نازک ہے۔افغانستان چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ایک ایسا پہاڑی ملک ہے، جہاں تانبے، لوہے، کرومائیٹ، پارے اور سونے چاندی سمیت کئی قدرتی معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں لیکن وہاں عشروں سے جاری خانہ جنگی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث یہ قدرتی ذخائر آج تک نکالے ہی نہیں جا سکے۔ہندو کش کی اس ریاست میں اس شعبے میں حکومت کی طرف سے کوئی باقاعدہ طویل المدتی سرمایہ کاری بھی نہیں کی جا سکی۔ اسی لیے بہت سے مقامی باشندے وہاں غیر قانونی طور پر ان قدرتی وسائل کی کان کنی کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…