ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو پانی کے قطرے قطرے سے محروم کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب،مودی سرکارنے کن منصوبوں پر عملدرآمدکا فیصلہ کرلیا؟منہ توڑ جواب دینے کا وقت آن پہنچا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دلی(این این آئی)بھارت نے پاکستان کو اپنے حصے کے پانی سے محروم کرکے پانی کی شدید قلت والے ملک میں تبدیل کرنے کے لیے دو ڈیموں سمیت تین منصوبوں پر تیزی سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ان تین منصوبوں میں شاہ پور کنڈی ڈیم، پنجاب میں دریائے ستلج اور بیاس کو ملانا اور کشمیرمیں اُجھ ڈیم کی تعمیر شامل ہیں۔

بھارتی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ تینوں منصوبے بین الریاستی تنازعات کے باعث روک دیے گئے تھے لیکن اب ان منصوبوں پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سندھ طاس معاہدے کے تحت ستلج ، بیاس اور راوی کے دریاؤں پر بھارت کے جبکہ دیائے چناب، جہلم اور سندھ پر پاکستان کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔اُجھ ڈیم جموں کے ضلع کٹھوعہ میں پن بجلی اور آبپاشی کے لیے دریائے راوی پربنایا جائے گا جس سے 196میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی۔ مقبوضہ علاقے میں قابض حکام نے منظوری کے لیے تفصیلی رپورٹ نئی دہلی کو ارسال کی ہے اور توقع ہے کہ وزارت آبی وسائل کی ایڈوائزری کمیٹی اس کی منظوری دے گی۔ بھارت خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف سے دستبردار کرانے کی غرض سے اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے پاکستان کے آبی وسائل پر ڈیم تعمیر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔بھارت نے اپنی ریاست پنجاب کی حکومت سے بھی کہاہے کہ وہ دریائے ستلج اور بیاس کو مربوط کرنے کی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرے جس سے بھارت کو پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو مزید کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…