جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاسداران انقلاب اور انٹیلی جنس کا ایرانی صدر روحانی کی جاسوسی کا انکشاف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2018 |

تہران (این این آئی)ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد ایرانی ریاست کے اہم اداروں کے درمیان باہمی رساکشی اور اختلافات بھی شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق دومئی 2018ء کو امریکا کے ایران کیساتھ طے پائے معاہدے سے علیحدگی

کے بعد حکومت اور ایرانی رجیم کے کئی ادارے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں۔ خاص طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب انٹیلی جنس اداروں اور سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے صدر حسن روحانی پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس ادارے اور پاسداران انقلاب حسن روحانی پر ایک ناکام جوہری معاہدہ کرنے اور ایران کی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے کے الزامات عاید کرتے ہیں۔تین ماہ قبل ایرانی پارلیمنٹ کے سخت گیررکن جواد کریمی قدوسی نے انکشاف کیا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے صدر حسن روحانی کی جاسوسی کرتے ہیں۔ ان کے موبائل فون پر ہونے والی گفتگو کی مانیٹرنگ کی جاتی اور اسے ٹیپ کیا جاتا ہے۔ ایرانی محکمہ دفاع کے ایک دوسرے عہدیدار غلام رضا جلالی نے بھی کہا ہے کہ صدر حسن روحانی کے موبائل فون کی جاسوسی کی جاتی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ آیا صدر کی جاسوسی کون کررہا ہے۔خیال رے کہ غلام رضا جلالی کی زیرانتظام تنظیم دفاع سلبی ایران کی مسلح افواج کے زیرانتظام کام کرتی ہے اور اسے براہ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک حادثے کے بعد صدر حسن روحانی کے موبائل فون کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ قبل ازیں 23 جولائی کو رکن پارلیمنٹ جواد کریمی قدوسی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسداران انقلان اورانٹیلی جنس ادارے صدر حسن روحانی کے موبائل فون اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…