جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا ہوائی اڈوں پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا منصوبہ

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی حکومت نے ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے افراد کے لیے ہوائی اڈوں پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب مسافر حضرات کو شناختی کارڈ اور بورڈنگ پاس ہمراہ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں سول ایوی ایشن کی منسٹری نے بتایا کہ اس منصوبے پر عمل کا آغاز

آئندہ برس سے کیا جائے گا۔ اس منصوبہ دراصل بھارت میں ہوائی سفر کرنے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بنایا گیا ہے۔وزارتِ سول ایوی ایشن کے سیکرٹری راجیو نائن چوبے نے ایک بیان میں کہاکہ اندرون ملک سفر کرنے والے مسافر حضرات انتخاب کر سکیں گے کہ آیا وہ شناختی دستاویزات کے بغیر بایؤ میٹرک طریقے سے چیک ان کرانا چاہتے ہیں۔یہ منصوبہ تقریباویسا ہی ہے جیسا کہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائن نے گزشتہ ماہ متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ مسافروں کی شناخت کے لیے اٹلانٹا میں بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کرنے والی ہے۔برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئر ویز نے بھی حال ہی میں اورلینڈو، نیویارک اور میامی کے ہوائی اڈوں پر صارفین کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔بھارتی مجوزہ منصوبے کے تحت مسافر حضرات کی شناخت کے لیے ایئر پورٹ میں داخل ہونے سے لے کر بورڈنگ اور چیک ان کے مراحل کی تصاویر لی جائیں گی۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے فروری 2019 میں بنگلور اور حیدر آباد کے ہوائی اڈوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے بعد اپریل سن 2019 تک چند دیگر ایئر پورٹوں پر بھی یہ نظام نصب کیا جائے گا جن میں کولکتہ، وارانسی، پونے اور وجیا واڈا شامل ہیں۔دوسری جانب بنگلور ایوی ایشن ویب سائٹ کے ایڈیٹر دیویش اگر وال نے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے حوالے سے مسافروں کے ذاتی کوائف کو تحفظ فراہم کیے جانے پر سوال اٹھتے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ ایک عرصے کے دوران فضائی سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…