اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے افرادی قوت، روزگار اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے،
جس سے پاکستانی کارکنوں کے لیے مستقبل میں روزگار کے مزید امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔اس حوالے سے پیش رفت وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل چوہدری سالک حسین اور متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ وفاقی وزیر نے کراچی میں قائم اماراتی قونصل خانے کا دورہ کیا، جہاں دونوں شخصیات نے مختلف باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران پاکستانی افرادی قوت کے لیے متحدہ عرب امارات میں روزگار کے نئے راستے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امور زیر بحث آئے۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور ہنرمند کارکنوں سے متعلق معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افرادی قوت، روزگار اور تکنیکی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔دوسری جانب اماراتی قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے بھی دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت جاری رکھنے پر زور دیا۔ملاقات کے بعد وفاقی وزیر نے متحدہ عرب امارات کے قونصلیٹ اور ویزا سینٹر کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں ویزا درخواستوں کی وصولی اور پراسیسنگ کے طریقہ کار سمیت درخواست گزاروں کو دستیاب سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔حکومت پاکستان بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافے اور نوجوانوں کو جدید پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت کے باوجود اس مرحلے پر نئی ملازمتوں یا بھرتیوں کی کوئی مخصوص تعداد سامنے نہیں آئی۔



















































