جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی یاست کیرالا میں شدید سیلاب سے ہونےوالی ہلاکتوں کی تعداد324 ہو گئی

datetime 18  اگست‬‮  2018 |

ممبئی (انٹرنیشنل ڈیسک)بھارت کی جنوب مغربی ریاست کیرالا میں آئے شدید سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 324 ہو گئی ہے ٗ مون سون کی طوفانی بارشوں سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا ٗ بد ترین موسمی حالات کے باعث وارننگ جاری کر دی گئی ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاستی وزیراعلیٰ پینارائی وجییان نے بتایا کہ اْن کی ریاست کو گزشتہ ایک سو سالوں کے سب سے سنگین سیلاب کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ ریاست کے کئی علاقے گزشتہ 10 روز سے شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں ۔ ریاستی وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے ملکی وزیر دفاع سے مزید فوجی ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تا کہ کئی علاقوں میں چھتوں پر بیٹھے ہوئے متاثرہ افراد کی منتقلی کا کام شروع کیا جا سکے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مطابق بھارت میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری بارشوں کے باعث حکومتی سیلابی کیمپوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد پناہ لیے ہوئے ہیں ٗکئی افراد اپنے گھر کی چھتوں پر جانیں بچانے کے لیے پناہ لینے پر مجبور ہوئے ٗریاست کیرالہ میں شدید بارشوں کے باعث فضائی اور ٹرین سروس بھی معطل ہوگئی۔بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں نے کیرالہ کی 14 میں سے 12 اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے اور جون سے لے کر اب تک ان بارشوں سے 2 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ٗ 80 ہزار سے زائد ایکڑ کے رقبے پر پھیلی فصل کو بھی نقصان پہنچا `ریاست کے ساحلی شہر کوچی میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے رن وے پر پانی کھڑے ہوجانے کے باعث تمام فلائیٹ ا?پریشنز ہفتے کے روز تک کے لیے معطل ہوگئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کیرالہ میں 247، اتر پردیش میں 190، مغربی بنگال میں 183، مہاراشٹرا میں 139، گجرات میں 52، آسام میں 45 اور ناگالینڈ میں 11 افراد اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…